خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 135

خطبات محمود جلد ۴ ۱۳۵ ١٩١٤ء یہ بیع بہر حال مفید ہے:۔فَاسْتَبْشِرُوا۔پس اے لوگو! تم اپنی اس بیچ پر خوش ہو۔ایک دنیا میں عظیم الشان کامیابی ہے۔لوگ دنیا میں آٹھ آٹھ دس دس روپے کے بدلے سر کٹوا دیتے ہیں لیکن وہ تخوا ہیں اور وہ وعدے ج دنیاوی گورنمنٹ کی طرف سے ہوتے ہیں وہ محدود ہوتے ہیں۔وہ موت سے پہلے پہلے کیلئے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے احسان اور انعام صرف اسی دنیا تک کیلئے نہیں ہیں بلکہ وہ مرنے سے پہلے بھی ملتے ہیں اور مرنے کے بعد وہ اور زیادہ زور سے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔دنیا میں ایک سپاہی کو ایک گولی لگی ہوئی گورنمنٹ کے انعاموں سے محروم کر سکتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے اسے کوئی چیز محروم نہیں کر سکتی۔پس تم یہ انعام لینا چاہتے ہو تو التَّائِبُونَ۔تائب ( خدا کی طرف جھکنے والے) بن جاؤ۔لوگ بعض کو بڑے سمجھ کر ان کی طرف جھکتے ہیں لیکن مومن وہی ہے جو خدا کی طرف جھکے۔الْعَابِدُونَ تم خدا کے فرمانبردار بن جاؤ اور اس کی اطاعت میں لگ جاؤ۔اسلام کا خدا ایسا خدا نہیں ہے جو غلطی کو معاف نہ کرے بلکہ جو خدا ن اسلام نے پیش کیا ہے اگر تم سے کوئی غلطی ہو جائے تو تم اس کی طرف جھکو اور اس کی فرمانبرداری کرو۔وہ تم کو معاف کر دے گا۔تم اس کی اطاعت کرو۔اطاعت دو قسم کی ہے۔ایک انسان ہے جو اطاعت کرتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا رہتا ہے کہ مجھ پر ظلم ہورہا ہے۔ایک اطاعت یہ ہے کہ انسان اطاعت کرے اور اسے ظلم پر محمول نہ کرے۔مومن خدمت کر کے الحامدون خدا کی حمد کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دی اور اپنے خدام میں شامل کیا نہ کہ چڑے بلکہ اطاعت کرے اور ساتھ حمد بھی کرے۔پھر اس پر بس نہیں بلکہ السائحون نفس پر دکھ بھی جھیلتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں۔لوگوں سے قطع تعلق کر کے ایک طرف ہو کر خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کی خدمت اور فرمانبرداری کے لئے سفر کرتے ہیں پھر الراکعون وہ علیحدہ ہو کر اللہ کی عبادت کے لئے جھک جاتے ہیں صرف جھکتے ہی نہیں بلکہ اَلسَّاجِدُونَ بالکل گر ہی جاتے ہیں اور جب ان کے نفس اس حد تک پہنچتے ہیں تو وہ اس سے ترقی کر کے الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ لوگوں کو نیک باتوں کی طرف بلاتے رہتے ہیں صرف اپنی جان کیلئے لوگوں کو آمر بِالْمَعْرُوفِ نہیں کرتے بلکہ دنیا میں امر بِالْمَعْرُوفِ تو بہت ہی آسان ہے نَهى عَنِ الْمَنگر مشکل ہے اس لئے مؤمن النَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ نَبِی عَنِ الْمُنْكَرِ بھی کرتے ہیں۔بمبئی میں میں نے دیکھا ہے کوئی