خطبات محمود (جلد 4) — Page 134
خطبات محمود جلد ۴ ۱۳۴ سال ۱۹۱۴ء تم اسے اپنے پاس رکھو اور اپنے استعمال میں لاؤ۔ہاں جب کبھی ہم کوئی حکم تم کو کریں تو وہ ادا کر دینا۔باوجود اس کے کہ تم وہ چیز بیچ چکے ہو لیکن پھر تمہیں دے دی کہ تم اس سے فائدہ حاصل کرو۔ہاں ہمارا کوئی حکم ہو اسے مان لینا اور پھر اس کو جہاں چاہو استعمال کر لینا۔نفس پک کر آسمان پر نہیں چلا جاتا بلکہ ہمارے ہی پاس رہتا ہے۔ہم تمام اعضاء کو استعمال کرتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ خدا کوئی حکم دے تو اسے ماننا ہوگا یہ تو اس بیع کے انجو بے ۲_ اور اسکے نفعے بتلائے۔اب کام فرماتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ نفس و اموال کس طرح خریدے جاسکتے ہیں۔وہ کسی خزانے میں داخل نہیں ہو جاتے بلکہ ہمارے پاس ہی رہتے ہیں۔شرط صرف یہ ہے کہ مومن کو خدا کے رستے میں لڑنا چاہیئے اور اس کی عظمت و جلال قائم کرنے اور اسے ثابت کرنے کیلئے کوشش کریں۔ان شریروں کا مقابلہ کریں اور اگر وہ دین حقہ کو تلوار سے مٹانا چاہیں تو یہ تلوار کو ان کے مقابل پر چلائیں اور خدا کی عظمت کو ظاہر کریں۔اور اگر وہ مال یا جان یا کتب کے شائع کرنے سے مقابلہ کریں تو مومن کو چاہئیے کہ وہ ان کا مقابلہ جان، مال یا کتب شائع کرنے سے کرے۔پھر مقابلہ پر تو بعض لوگ مارے جاتے ہیں کبھی کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں یا دشمن مار دے۔مگر مومن اپنے مارے جانے کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ وعدہ کوئی نیا تم سے ہی نہیں بلکہ یہ وعدہ ہم پہلے تو رات میں پھر انجیل میں کر چکے ہیں اور اس وعدہ کو تم تو رات میں آزما چکے ہو اور انجیل میں بھی۔جب ہم اس کو دو مرتبہ سچا کر کے دکھلا چکے ہیں تو کیا اب ہم اس سے پھر جائیں گے؟ تم تبہ دیکھ چکے ہوجنہوں نے تو رات کی پیروی کی، انجیل کی پیروی کی وہ کامیاب ہو گئے۔جس خدا نے دو مرتبہ اسے سچا کر دیا وہ اب بھی اسے سچا کر دکھلائے گا ( دو مرتبہ ان مخاطب قوموں کے لحاظ سے فرما یا ورنہ ایسے تو ہزاروں قوموں پر صادق آچکا ہے ) انسان جب ایک بات کو ایک مرتبہ آزما لے تو پھر اسے اس کے کرنے میں کوئی جھجک نہیں رہتی اور وہ اسے کرتے ہوئے ڈرتا نہیں۔انسان جب ایک مرتبہ پانی پی کر دیکھتے لیتا ہے کہ پانی نے پیاس کو بجھا دیا تو اب اسے دوبارہ کبھی اس بات میں تامل نہیں رہے گا کہ پانی پیاس بجھاتا ہے یا نہیں۔اور جب دیکھتا ہے کہ روٹی سے پیٹ بھر جاتا ہے تو اسے کبھی شک نہ ہوگا کہ روٹی سے پیٹ نہیں بھرتا۔تو خدا نے جب دو مرتبہ اس وعدہ کو سچا کر کے دکھلا دیا تو اب اس کے ماننے میں کوئی انکار کی گنجائش نہیں رہے گی اور اسے یقین کرنا چاہیئے۔رتبہ