خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 118

خطبات محمود جلد ۴ ۱۱۸ (۲۸) سال ۱۹۱۴ء افراط و تفریط مُہلک مرض ہے (فرموده ۲۶۔جون ۱۹۱۴ء) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَإذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبُ بِعَصَاكَ الْحَجَرَه فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَد عَلِمَ كُلُّ أناسٍ مَّشْرَبَهُمْ ، كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ اس کے بعد فرمایا:۔ط افراط و تفریط، ان دونوں نے گل دنیا کے مذاہب کو تباہ کر دیا ہے۔انسان ایک حد تک بہت کم رہتا ہے۔کئی جوش میں آکر حد سے آگے نکل جاتے ہیں اور کئی ضعف سے بالکل ہی پیچھے رہ جاتے ہیں۔اصل منزل مقصود تک بہت کم لوگ پہنچتے ہیں۔کئی لوگوں نے حد سے بڑھ کر ایسا کہ دیا کہ خدا ایک نہیں ہے بلکہ ایک سے زیادہ خدا ہیں۔پھر بعض نے تو اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ ایک ایک شہر، پھر ایک ایک قبیلہ، پھر ہر ایک گھر کا ایک ایک خدا بنا دیا۔پھر دوسرے آئے انہوں نے کہہ دیا کہ خدا کوئی ہے ہی نہیں ، ہم خود بخود پیدا ہوئے ہیں اور جو کچھ دنیا میں ہے آپ ہی آپ سے بن گیا ہے۔ایک گروہ افراط میں تباہ ہو گیا اور ایک گروہ تفریط میں۔پھر بعض گروہ ایسے ہیں جنہوں نے بعض انبیاء کو خدا بنا دیا۔اور ایک گروہ نے تو کہہ دیا کہ عیسی خدا کا بیٹا ہے۔خدا نے اس کو ہماری خاطر صلیب پر لٹکا دیا اور ہمارے گناہ معاف ہو گئے۔دوسرا گروہ اٹھا انہوں نے کہا کہ وہ (حضرت عیسی ابن مریم ( تو نعُوذُ بِاللهِ لعنتی تھا اور