خطبات محمود (جلد 4) — Page 3
خطبات محمود جلد ۴ (4) قرآن شریف کا اول و آخر فرموده ۵ جنوری ۱۹۱۲ء بمقام قادیان) سال ۱۹۱۲ء تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے سورۃ الفلق کی تلاوت فرمائی:۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِنْ شَيْرِ النَّفْتَتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَيْرِ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔اس کے بعد فرمایا:۔قرآن شریف کو جن لوگوں نے غور اور تدبر سے پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ تمام قرآن شریف کالب کباب الحمد شریف یعنی سورہ فاتحہ ہے گویا کہ سارا قرآن شریف مجملاً بطور فہرست کے سورہ فاتحہ ہے۔اور جن لوگوں نے اس سے زیادہ غور وفکر کیا ہے انہوں نے بسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ کو سورۃ فاتحہ کا خلاصہ قرار دیا ہے۔بعد اس کے یہ ایک صاف بات ہے کہ سورہ فاتحہ میں صراط مستقیم والی دعا کے ساتھ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ، کی دعا سکھلا کر افراط اور تفریط سے بچنے کی ترغیب دلائی ہے۔صراط مستقیم کے جادہ سے ادھر اُدھر ہونا یہ ایک اندرونی فتنہ ہے اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ يَضَالین کی راہ اختیار کرنا گویا بیرونی فتنہ میں مبتلاء ہونا ہے۔اندرونی فتنہ کے بالمقابل سب سے بڑا بیرونی فتنہ ضالين والا فتنہ ہے۔یہ تو قرآن مجید کی ابتداء کی سورہ ہے اب قرآن شریف کے اخیر میں بھی سورہ فاتحہ کے مضمون کے بالمقابل دوفتنوں کا ذکر الگ الگ دو سورتوں میں بیان فرما کر ان می