خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 98

خطبات محمود جلد ۴ ۹۸ سال ۱۹۱۴ء علیہ السلام کون تھے ایک یہودی تھے اور وہ بھی یہودی تھے جنہوں نے آنحضرت سالن پہ ستم کا مقابلہ کیا تھا لیکن ان کا اب کوئی نام بھی نہیں جانتا۔اور ان کے نام لینے والے اس وقت کثرت سے موجود ہیں۔قومیت کے لحاظ سے یہ اور وہ ایک ہی تھے مگر انہوں نے چونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا تھا اس لئے ان کے نام اب تک قائم ہیں۔اور انہوں نے ایک رسول کا مقابلہ کیا تھا اس لئے ان کے نام صفحہ دنیا سے محو ہو گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! دیکھو تم پر ہم نے بڑے بڑے انعام کئے تم میری نعمتوں کو یاد کرو میں نے تم کوگل جہان پر فضیلت دی تھی۔یہودیوں پر ایک ایسا زمانہ آیا تھا کہ اس وقت کوئی ان کا مقابلہ کرنے والاصفحہ روزگار پر نہ کی تھا۔دنیا کے بہت بڑے حصے پر ان کی حکومت تھی۔حتی کہ اس وقت انہوں نے فرمانبرداری کی تھی لیکن جب اس سے علیحدہ ہو گئے تو ذلیل ہو گئے۔انِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعُلَمین اس آیت کے متعلق لوگوں کو بہت دھوکا لگا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تمام امتوں پر فضیلت دے دی حتی کہ آنحضرت مالی ایم کی امت پر بھی ان کو فضیلت ہے حالانکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو فضیلت دی اور کہیں ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو۔جس کے یہ معنے ہیں کہ ان کو اپنے اپنے زمانہ میں سب قوموں سے فضیلت تھی۔ایک مجلس میں اگر کسی آدمی کو کہا جاوے کہ یہ سب سے بڑا ہے تو اس کے معنے یہی ہوں گے کہ ان مجلس میں بیٹھے ہوئے آدمیوں سے بڑا ہے نہ کہ سارے جہان کے آدمیوں سے بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو فرماتا ہے کہ ہم نے تم کو اپنے زمانہ میں بڑی فضیلت دی تھی اور کو ئی تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔لیکن اب تم نے نبی کا مقابلہ کیا ہے اس لئے تم کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وَاتَّقُوا يَوْمًا لا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ۔یعنی اس دن سے ڈرو جس دن کہ کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا اور نہ شفاعت قبول کی جائے گی اور نہ بدلہ لیا جاوے گا اور کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوگا۔مصیبت کے وقت رشتے دار دوست آشنا چھوڑ دیتے ہیں اور بعض ایسی مصیبتیں ہوتی ہیں کہ ان میں کوئی کچھ مدد بھی نہیں دے سکتا۔اور اے بنی ہے اسرائیل! وہ وقت تمہیں یاد نہیں جبکہ تم فرعون کے ماتحت تھے اور وہ تمہیں دکھ دیتے تھے تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے اور عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اس میں تمہارے اوپر ابتلاء تھا۔