خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 93

خطبات محمود جلد ۴ ۹۳ سال ۱۹۱۴ء سناتے ہو۔لیکن اپنے آپ کو بھول گئے ہو۔آجکل بھی لوگ اتفاق، اتحاد کا وعظ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شریعت کے احکام کو نہ توڑو اور ان کو ترک نہ کر ولیکن خود سب کچھ کرتے ہیں اور برے کاموں کو نہیں چھوڑتے ایسے آدمی کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم ایسا کریں تو رشتہ دار، ماں، باپ، بھائی وغیرہ مخالفت کرتے ہیں۔اس لئے ان کیلئے خدا تعالیٰ نے فرمایا اِسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة یعنی زکوۃ اور صلوٰۃ سے مدد مانگو اور دعائیں مانگو۔پھر یہ کام مشکل تو ہے مگر خدا کے حضور متوجہ ہونے والے لوگ کسی مشکل کی پرواہ نہیں کرتے اور حق بات کی مخالفت سے نہیں ڈرتے۔بے دین لوگوں کیلئے پانچ وقت کی نماز پڑھنی مشکل ہوتی ہے دنیاوی کاموں میں لگے رہتے ہیں۔یہاں ایک آدمی آیا تھا جب وہ واپس گیا تو کسی نے یہاں کے حالات دریافت کئے۔وہ کہنے لگا کہ وہاں تو کوئی کام نہیں ہوتا۔دن میں ہزاروں نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔جن لوگوں کا تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں ہوتا۔ان و نماز کی کہاں توفیق مل سکتی ہے۔نماز کیلئے عزت و مال اور وقت کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔مثلاً اگر ایک افسر یا حاکم مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے جا کر بیٹھے تو اس کا چپڑاسی اس کے پاس بیٹھ سکتا ہے یا اسکے کندھے سے کندھا ملا کر ایک نو مسلم چو ہڑا نماز پڑھ سکتا ہے لیکن جن لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ملیں گے ان کیلئے یہ باتیں ذرا بھی مشکل نہیں ہوتیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کام ضائع نہیں ہوں گے بلکہ سب کاموں کا پورا پورا اور ٹھیک بدلہ ان کو دیا جائے گا۔خدا تعالیٰ کے حضور گر جاؤ اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرتے رہو جو اس کے حضور گر جاتے ہیں وہ کبھی ضائع نہیں ہو سکتے۔وہی نہیں بلکہ حضرت داؤ د فرماتے ہیں کہ میں نے خدا کے بندوں کی اپنی عمر میں سات پشتوں تک کی اولا دکو بھیک مانگتے نہیں دیکھاس بیہ ترقی کا گر ہے کہ تم خدا کو کبھی نہ بھولو تم اور تمہاری اولا د اور پھر اولاد کی اولاد بھی کبھی ضائع نہ ہوگی۔تم اللہ تعالیٰ کے حضور پسندیدہ ہو جاؤ۔خدا اپنے ہر ایک بندے سے وفاداری کرتا ہے کیونکہ فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ " جب تک انسان خود اپنے اندر گندا اور پلیدی پیدا نہ کرے اللہ تعالیٰ اپنے انعام واکرام بند نہیں کرتا۔جب کبھی تم پر کوئی مصیبت یا ابتلاء آئے اور آتے رہیں گے کیونکہ یہ سلسلہ نہ آج تک بند ہوا ہے اور نہ آئندہ بند ہوگا۔خلافت خواہ دوسری ہو یا ت تیسری یا چوتھی ہو یا پانچویں یا چھٹی۔ہمیشہ یہ ابتلاء آتے رہیں گے۔اگر ابتلاء نہ آئیں تو پھر خدا کی طاقت کس طرح ظاہر ہو۔