خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 64

خطبات محمود ۶۴ جوش میں شادی ہوئی مگر چونکہ شادی کی اصل غرض یہ نہیں اس لئے جب تعلقات بڑھتے ہیں تو پھر دیگر معاملات میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔یہ جس قدر جذبات ہیں۔محبت، غصہ، غیرت وغیرہ یہ اپنے اندر شرابی مادہ رکھتے ہیں کہ باوجود انسان جاننے کے کہ یہ بات ناروا ہے پھر بھی ان کی وجہ سے اس میں مصروف ہو جاتا ہے اس لئے وہ لوگ جو محبت کو سامنے رکھ کر شادی کرتے ہیں جب ان کا یہ جذبہ دور ہو جاتا ہے تو ان کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ایک شخص خوبصورت عورت سے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے شادی کرتا ہے مگر اس عورت کے اخلاق اچھے نہیں، گھر میں انتظام نہیں رکھ سکتی ان کی زندگی خراب ہو جاتی ہے۔اس لئے شادی کی غرض تقویٰ اللہ حفاظت نفس و نسل اور اپنے دینی و دنیوی امور میں بھلائی اور معاونت ہونی چاہئے۔لیکن اسلام نے اس کو سمجھا ہے اور سمجھایا ہے۔اور چونکہ علم کے ساتھ تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جب تک تربیت نہ ہو علم کچھ مفید نہیں ہو سکتا اس لئے شریعت اسلام نے تربیت کے لئے یہ رکھا ہے کہ جب میاں بیوی میں کچھ نا چاتی ہو تو فَا بَعَثُوا حَكَمَا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا۔لے دونوں طرف کے بزرگ جمع ہوں اور دونوں کے بیانات سن کر جس کی غلطی ہو اس کو سرزنش کریں۔ایک دفعہ۔دو دفعہ یہ ہو۔لیکن اگر ان کی اصلاح نہ ہو تو علیحدگی ہو جائے۔رسول کریم ﷺ کے عمل سے ظاہر ہے کہ آپ اپنی بیٹی اور داماد کو نصیحت فرماتے۔اگر بیٹی کا قصور ہو تا بیٹی کو ڈانٹتے اور اگر حضرت علی" کی غلطی ہوتی تو ان کو سمجھاتے کیونکہ بڑے چچا زاد بھائی اور ہادی ہونے کی حیثیت میں آپ کو باپ کا بھی درجہ حاصل تھا۔اسلام نے تربیت کا یہ صیغہ رکھا ہے مگر آج کل ہندوستان میں یہ صیغہ نہیں رہا۔جب عورت آتی ہے تو مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا میاں اپنے والدین سے فورا علیحدہ ہو جائے۔اگر چہ یہاں تک تو درست ہے کہ علیحدہ مکان ہو اور یہ شریعت کا بھی حکم ہے کیونکہ وہ نوجوان ہیں۔ان کو بے تکلفی کی بھی ضرورت ہے۔اگر وہ ہر وقت قید رہیں تو پھر وہ کیسے خوش رہ سکتے ہیں مگر بعض بہو ئیں یہاں تک کرتی ہیں کہ شہر تک چھڑا دیتی ہیں۔حالانکہ میاں بیوی بے شک علیحدہ ہوں اور ان کا حق ہے مگر یہ نہیں کہ بزرگوں کی نگرانی سے نکل جائیں۔اور پھر لڑکے والے لڑکے کو سکھلاتے ہیں۔میاں گربہ کشتن روز اول۔کہ عورت ر پہلے ہی دن رعب بٹھا لو۔لیکن کیا اس طرح تربیت ہو سکتی ہے۔یہ اسلامی طریق نہیں بلکہ اسلامی طریق وہ ہے جو رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے دکھا دیا۔