خطبات محمود (جلد 3) — Page 56
خطبات محمود ۵۶ جلد سوم سب سے پہلے ہم خدا کے وجود کو لیتے ہیں۔آج کل لوگ خدا کو جس رنگ میں پیش کرتے ہیں اس سے ڈر لگتا ہے اور بجائے اس کے کہ اس سے محبت پیدا ہو نفرت پیدا ہو جاتی ہے اس کی شان کے متعلق ایسی ایسی باتیں بیان کرتے ہیں کہ جن کو سن کر ہنسی آتی ہے۔وہ خدا وحدہ لا شریک ہے لیکن مسلمان کہلانے والے اس کے مقابلے میں غیروں کو سجدہ کرتے ہیں، ارواح کو نذریں دیتے ہیں اور ہر ایک شرک کی جگہ چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جو کالی پر زبان چڑھانے والوں کے آگے نذریں پیش کرتے ہیں جو زیادہ موحد بنتے ہیں وہ بھی شرک میں مبتلاء ہیں کیونکہ وہ مسیح کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے جانور پیدا کئے تھے۔حضرت خلیفہ اول اپنے ایک استاد کی رؤیا سنایا کرتے تھے جو بھوپال میں رہتے تھے۔انہوں نے دیکھا کہ ایک پل کے نزدیک ایک شخص پڑا ہے جس کی بہت ہی بری حالت ہے۔اپاہچ ہے لنگڑا لولاء اندھا اور تمام جسم زخموں سے بھرا پڑا ہے۔یہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ اے شخص تو کون ہے ؟ اس نے کہا کہ میں اللہ میاں ہوں انہوں نے کہا ہم تو پڑھتے سنتے رہے کہ آپ ہر قسم کے نقصوں سے پاک ہیں۔مگریہ کیا نقشہ ہے؟ اللہ تعالٰی نے کہا کہ میں تو بے نقص ہی ہوں۔مگر اہل بھوپال جس کو اور جیسے کو خدا کہتے ہیں اس کی یہ حالت ہے اور بھوپال میں میری یہی حیثیت ہے۔انہوں نے تو بھوپال میں ہی خدا کی یہ حیثیت دیکھی تھی لیکن اصل میں آج کل مسلمانوں کے خدا کی یہی حالت ہے۔انہوں نے خدا کا ایسا نقشہ بنا رکھا ہے کہ بجائے اس کے کہ اس سے محبت اور عشق پیدا ہو اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔پھر خدا کے بعد انبیاء ہوتے ہیں (میں ملائکہ کو چھوڑتا ہوں۔اگر چہ انہوں نے ملائکہ کو بھی نہیں چھوڑا اور محض انسان کی گناہگاری کو معمولی ثابت کرنے کے لئے فرشتوں کے متعلق بھی کہہ دیا کہ دو خاص فرشتے ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے تھے جو آج تک سزا بھگت رہے ہیں کہتے ہیں فرشتوں نے اعتراض کیا تھا کہ انسان دنیا میں رہ کر گنہگار ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم بھی وہاں جاؤ تو پتہ لگے۔چنانچہ جب وہ دنیا میں آئے تو آتے ہی ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے اور آج تک اس کی سزا بھگت رہے ہیں۔) اور نبیوں کو چھوڑ کر اپنے نبی سے بھی انہوں نے اچھا سلوک نہیں کیا۔اپنا استاد سب کو پیارا ہوتا ہے مگر انہوں نے اپنے استاد کے ساتھ یہ سلوک کیا کہ آپ کے دشمنوں نے منافقت کے رنگ میں آپ کے خلاف جس قدر گندی باتیں منسوب کی تھیں ان سب کو انہوں نے متبرک قرار دے کر اپنی کتب میں جگہ دی۔اب اگر کوئی انکار