خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 657

خطبات محمود ۱۴۴ جلسہ سالانہ پر اعلان نکاح کے بارہ میں ایک ہدایت (فرموده ۲۶ - دسمبر ۱۹۵۲ء) یہ کوئی علیحدہ خطبہ نکاح نہیں بلکہ اس خطبہ جمعہ کا حصہ ہے جس سے قبل حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محترم صاجزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کے نکاح کا اعلان فرمایا جو سیدہ امتہ السیمین صاحبہ بنت حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ بعوض ایک ہزار روپیہ مہر قرار پایا تھا۔نیز حضور نے سیدہ آنسہ بنت حضرت پیر محمد اسحق صاحب کے نکاح کا بھی اعلان فرمایا جو محترم قاضی محمود شوکت صاحب ابن قاضی محمد حنیف صاحب سے تین ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا تھا۔ان نکاحوں کے بعد حضور نے خطبہ جمعہ میں نکاحوں سے متعلق مندرجہ ذیل فقرات ارشاد فرمائے۔جو اس مجموعہ کی نسبت سے یہاں درج کر دیئے گئے ہیں۔حضور نے فرمایا : کئی اور دوستوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس موقع پر مجھ سے نکاح پڑھوائیں۔ان کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ مرکزی جماعت کے لوگ دعا میں شریک ہو جائیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دو دفعہ آنے کی بجائے اب جلسہ سالانہ پر آئے ہیں تو ساتھ ہی نکاح بھی پڑھوا لیں۔اس غرض کے لئے بیسیوں لوگ اپنی شادیاں ملتوی کر دیتے ہیں ایسے دوستوں کی خواہش ہوگی کہ میں ان کے نکاح کا اعلان کردوں۔لیکن چونکہ نکاحوں کے اعلان پر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور جلسہ سالانہ کے پروگرام کو اتنی دیر تک روکا نہیں جاسکتا اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ۲۸ دسمبر کو مغرب اور عشاء کے درمیان نکاحوں کا اعلان کر دیا جائے۔