خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 654 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 654

خطبات محمود ۶۵۴ جلد سوم شادی کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لئے اس جگہ رشتہ کرنا پسند فرمایا۔غرض یہ دونوں خاندان احمدیت سے پرانا تعلق رکھتے ہیں۔لیکن اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پرانا اور نیا سب نسبتی چیزیں ہیں۔جب تک پیوند قائم رہے پر انا زیادہ برکت کا مستحق ہوتا ہے اور دنیا اس سے کم لیکن جب آئندہ نسل اپنے تعلقات کو منقطع کرلے۔تو خدانہ پرانے کا لحاظ کرتا ہے نہ نئے کا۔خدا تعالٰی کا سلوک ہمیشہ تعلق کی بناء پر ہوتا ہے۔دنیا میں بھی دیکھ لو جب تک کوئی دوست تم سے اچھا سلوک رکھتا ہے تم اس سے محبت اور پیار کے ساتھ پیش آتے ہو۔اور اگر وہ دشمن ہو جاتا ہے تو تم بھی اس کے دشمن ہو جاتے ہو۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ تم اپنے کسی دشمن کو موقع دو کہ وہ تمہارے کھانے میں زہر ملا دے اس لئے کہ وہ آج سے پانچ سال پہلے تمہارا دوست ہوا کرتا تھا۔جب وہ دشمن ہو جائے گا تو وہ بہر حال تمہیں دکھ دینے کی کوشش کرے گا چاہے وہ تمہارا پانچ سالہ دوست ہو یا دس سالہ دوست ہو۔جب دنیا میں تمام سلوک تعلقات پر منحصر ہوتے ہیں تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالٰی اس کو نظر انداز کر دے۔جب اچھے خاندان اور پرانے خاندان اپنے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں تو خدا ان کا زیادہ لحاظ کرتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے صحابہ بھی لی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ عرب میں سب سے زیادہ شریف خاندان کونسے ہیں۔آپ نے فرمایا وہی جو پہلے شریف تھے بشرطیکہ وہ خدا تعالٰی کا تقویٰ اختیار کریں۔اگر وہ تقویٰ اختیار کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول کرے گا اور ان کے باپ دادا کی خدمات کی وجہ سے بھی ان کو اپنی برکتوں سے حصہ دے گا اور اگر وہ کمزور ہو جائیں گے تو محض اس وجہ سے کہ ان کے باپ نے قربانی کی تھی یا دادا شہید ہو گیا تھا۔یا پردادا نیک تھا یا چا زیادہ چندے دیا کرتا تھا، وہ خدا تعالٰی کے فضلوں کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ان باتوں سے بھلا بنتا ہی کیا ہے۔مثل مشہور ہے کہ کسی نے پوچھا کہ گیدڑ جو رات کو چلاتے اور شور مچاتے ہیں تو آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟ جواب دینے والا کوئی بانداق آدمی تھا۔کہنے لگا رات کو ایک گیدڑ ایک طرف کھڑا ہو جاتا ہے اور دوسرے دوسری طرف۔وہ گیدڑ جو علیحدہ کھڑا ہوتا ہے کہتا ہے پدرم سلطان بود - میرا باپ بادشاہ تھا۔اس پر تمام گیدڑ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔کہ ترا چہ ترا چہ یعنی پھر تجھے کیا؟ پھر تجھے کیا؟ اگر وہ بادشاہ تھا تو ہو چکا۔اس کی بادشاہت کا اب تجھے کیا فائدہ ہے۔یہ مثال کسی نے اس لئے بنائی ہے کہ یہ کہنا کہ میرا باپ ایسا تھا اور میرا دادا ایسا تھا یہ کوئی خوبی کی