خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ جلد سوم ہو تاکہ وہ کس حالت میں ہیں۔نکاح کی مثال موت کے ساتھ بھی دی جاسکتی ہے کہ جب ایک شخص کے جسم سے روح علیحدہ ہوتی ہے تو اس کے گھر والوں میں ماتم پڑ جاتا ہے مگر جب اسے دفن کر آتے ہیں اس کا حساب و کتاب شروع ہوتا ہے جو اس کے لئے مشکل وقت ہوتا ہے اس وقت لوگ خاموش ہوتے ہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ بعض لوگوں کا حساب چند دن دیر میں لیا جاتا ہے لے۔تو ایسے مردے کے لئے جب رنج کا وقت ہوتا ہے اس وقت رونے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔پر نکاح ان معاملات میں سے ہے کہ جن کی ابتداء تو خوشی سے ہوتی ہے مگر انتہاء کا کسی کو علم نہیں ہوتا اور نہیں جانتے کہ اس کے کیسے ثمرات پیدا ہوں گے۔عام لوگ نکاح کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے۔حالانکہ نکاح ایک عمارت ہے جس میں عظیم الشان دنیا آباد ہوتی ہے۔اس وقت سوا ارب دنیا کی آبادی بتائی جاتی ہے۔چند سو سال قبل دنیا کی جتنی آبادی تھی آج اتنی صرف ابراہیم کی نسل دنیا میں موجود ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک آدمی کی نسل سے ایک دنیا بن جاتی ہے۔اس لئے یہ معالمہ چھوٹا معالمہ نہیں بلکہ بڑا اہم معالمہ ہے اس لئے بڑے فکر، بڑی خشیت اور بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے اس موقع کے لئے قرآن کریم کی ان آیتوں کو منتخب کیا ہے جن میں بار بار تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے۔خوشی ایک ایسی چیز ہے جو اپنی ذات میں خوبصورت ہے اور کم لوگ ہیں جو خوشی میں خدا کو یاد رکھتے ہیں۔رینج میں تو خدا یاد آہی جاتا ہے پس چونکہ شادی بھی ایک ایسا معالمہ ہے جو دنیا میں خوشی کا معاملہ ہے اور سوائے دنیا کے ایک جزیرہ کے باقی تمام ممالک میں اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اس لئے قرآن میں تقویٰ اللہ پر زور دیا گیا ہے اور بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ خدا پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اس سے دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ خدایا اس کے اچھے نتائج پیدا ہوں اور یہ کام تیری مرضی کے مطابق ہو۔الفضل ۸ - مارچ ۱۹۲۰ء صفحه ۲)