خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 50

خطبات محمود ۱۴ جلد سوم نکاح کے معاملہ میں فکر، خشیت اور دعاؤں سے کام لو ا فرموده ۲۸ فروری ۱۹۲۰ء) ۲۸۔فروری ۱۹۲۰ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے شیخ غلام فرید صاحب بی۔اے کا نکاح شیخ فضل حق صاحب بٹالوی کی ہمشیرہ نواب بیگم سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔حضور نے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : نکاح کا معالمہ ایک نہایت ہی عام اور ہمیشہ واقع ہونے والے معاملات میں سے ہے اور ان واقعات میں سے ہے کہ جو خوشی و رینج کے لحاظ سے گو ایک مخصوص حلقہ میں چند منٹ یا چند گھنٹہ کے لئے اثر پیدا کرتے ہیں مگر پھر ان کا اثر بظاہر مٹ جاتا ہے۔میرے نزدیک شادی و نکاح کی مثال ان واقعات کی طرح ہے جو تیر یا گولی کی طرح چھٹتے ہیں۔جس وقت تیر چھٹتا ہے تو اس کی ایک حرکت ہوتی ہے مگر جب تیر نشانہ پر پہنچتا ہے تو ادھر سناٹا ہو جاتا ہے۔اس کے چھٹنے کی حرکت اس وقت تک بے حقیقت ہوتی ہے جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ وہ نشانہ پر بھی بیٹھا ہے یا یونہی ضائع ہو گیا ہے۔مگر تیر کے چھٹنے اور نشانہ تک جانے کا عرصہ وفاصلہ اتنا قلیل ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ نہیں ہو تا مگر ہوتا ضرور ہے لیکن جب وہ چھٹتا ہے تو ادھر حرکت ہوتی ہے اور جب وہ اپنے مقام پر پہنچتا ہے تو یہاں سناٹا ہوتا ہے۔یہی حال نکاح کا ہوتا ہے کہ جب تک اس کا بظاہر کوئی اثر نہیں ہوتا اس کے لئے حرکت ہوتی ہے، تیاریاں کی جاتی ہیں، دعوتیں ہوتی ہیں لیکن جب نکاح کے ثمرات کا وقت آتا ہے تو ہر طرف خاموشی ہوتی ہے جب میاں بیوی میں لڑائیاں اور جھگڑے ہوں یا اور معاملات میں ان کی کشمکش ہو رہی ہو اس وقت کسی کو علم نہیں