خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 592

خطبات محمود ۵۹۲ جلد سوم ایک بار وہاں سے اڑ چکی ہیں اور اب دوبارہ بیٹھنا چاہتی ہیں۔اس طرح گویا خود لڑکی کے رشتہ داروں نے بھی خدا تعالٰی سے اس رشتہ کی بشارات پائی تھیں مگر میری خواب کے مطابق ہوا یہ کہ لڑکی نے کہہ دیا کہ میں تو بہار ہوں اس لئے یہ بوجھ نہ اٹھا سکوں گی اور لوگ کہیں گے کہ اس گھر سے پہلے ایک بیمار آئی تھی وہ فوت ہو گئی تو اب دوسری آگئی ہے اور لڑکی نے اپنے والد کو ایک بہت درد ناک خط لکھا جس میں اپنی بیماری کی حالت بیان کر کے لکھا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم لوگ بجائے ثواب کے عذاب میں مبتلاء ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی کسی گرفت میں آجا ئیں اور لڑکی کے والد صاحب کا بھی یہی خیال ہو گیا اس عرصہ میں لڑکی کی والدہ نے اسے سمجھایا اور کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کی رائے لے لی جائے۔چنانچہ ایک لیڈی ڈاکٹر کی رائے لی گئی تو اس نے کہا کہ لڑکی ہر گز ایسی بیمار نہیں کہ شادی کے قابل نہ ہو اور ذمہ داری نہ اٹھا سکے اس پر لڑکی کا شبہ بھی دور ہو گیا اور اس کے والد بھی راضی ہو گئے۔اب میں نے جو رؤیا دیکھا تھا اس کا دوسرا حصہ ابھی پورا ہونا باقی تھا یعنی یہ کہ اگر کوئی راضی ہی ہو جائے تو پھر جلدی کرے یا دیر کرے۔چنانچہ وہ اس طرح پورا ہوا کہ جب نکاح کے ذکر کے ساتھ رخصتانہ کا ذکر ہوا تو برادرم سید عزیز اللہ شاہ صاحب نے سید ولی اللہ شاہ صاحب سے کہا کہ رخصتانہ ہم جلدی نہیں کر سکتے تیاری کے لئے ہمیں وقت ملنا چاہئے ہم نہیں چاہتے کہ جلدی میں کوئی سامان نہ کر سکیں اور لڑکی کی دل شکنی ہو اور وہ سمجھے کہ میں چونکہ بیمار تھی اس لئے والدین مجھے یوں ہی پھینک رہے ہیں اس طرح گویا رویا کا ہر حصہ پورا ہو گیا میں نے اپنے خاندان کے جن افراد سے مشورہ کیا انہوں نے بھی یہی رائے دی کہ بچوں کے انتظام کے لئے اور شادی ہی مناسب رہے گی میری زیادہ بے تکلفی اپنی ہمشیرہ مبارکہ بیگم سے ہے ان سے میں نے ذکر کیا تو انہوں نے تذکرہ کے یہی الہامات مجھے سنائے اور کہا کہ میں تو خود آپ سے یہ کہنا چاہتی تھی مگر مریم بیگم مرحومہ سے چونکہ مجھے بہت محبت تھی اور لوگوں کو معلوم تھا کہ ہمارے باہم بہت تعلقات تھے اس لئے میں نے اس ڈر سے آپ کو یہ مشورہ پہلے نہیں دیا کہ لوگ سمجھیں گے کہ زندگی میں جس سے اتنی محبت تھی اس کی وفات کے بعد فوراہی اور شادی کر لینے کا مشورہ دے رہی ہیں۔انہوں نے اپنا ایک خواب بھی سنایا جو انہوں نے ام طاہر مرحومہ کی زندگی میں دیکھا تھا جس کی تعبیر یہی ہے کہ اس خاندان میں میری دوسری شادی ہوگی۔عجیب بات یہ ہے کہ جو خواب مبارکہ بیگم نے دیکھا تھا وہی خواب برادرم سید ولی اللہ