خطبات محمود (جلد 3) — Page 573
خطبات محمود ۵۷۳ جلد سوم فحان ان تعان وتعرف بین الناس کے کا حکم اللہ تعالی کی طرف سے صادر ہو جاتا ہے مگر وہ عزت بھی لوگ فرشتوں کی مار کھا کر کرتے ہیں اپنے طور پر نہیں کرتے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ مرض ہماری جماعت میں بھی پایا جاتا ہے جب کبھی وقف زندگی کی تحریک کی جائے اور نوجوانوں سے کہا جائے کہ وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کریں اول تو کھاتے پیتے لوگوں کی اولاد وقف زندگی کی طرف آتی ہی نہیں اور پھر جو لوگ آتے ہیں امراء ان کی طرف تحقیر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان سے بات کرنا یا ان کے ساتھ چلنا پھرنا ہماری طرف سے ایک قسم کا تذلل ہے ورنہ خود یہ اس بات کے مستحق نہیں ہیں۔اسی طرح ان کی شادیوں اور بیاہوں میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں اور میرے نزدیک یہ امر بہت بڑے قومی تنزل کی علامت ہے۔اگر واقع میں یہ درست ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتقكُمُ که تو خدا تعالیٰ کے حضور حسن کو عزت حاصل ہو ہمیں اسی کو عزت دینی چاہئے یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جو شخص بڑا دنیا دار ہو وہ خدا کے حضور معزز ہوتا ہے اور اگر یہ بات درست نہیں تو پھر اللہ تعالی جن کو عزت دیتا ہے یقیناً ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم انہیں کو عزت دیں اور ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت پانے والے کے مقابلہ میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا، نہ قیصر اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت رکھتا ہے، نہ کسرئی اس کے مقابلے میں کوئی حقیقت رکھتا ہے، نہ کوئی اور بادشاہ یا پریذیڈنٹ اس کے مقابل پر کوئی عزت رکھتا ہے۔بے شک دنیوی بادشاہ بھی عزتیں رکھتے ہیں مگر انہیں دنیا کی عزتیں ہی حاصل ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی کوئی عزت نہیں۔پس یہ ایک غلط بات ہے جو ہماری جماعت میں پیدا ہو گئی ہے اور جس کا بدلہ نفسیاتی طور پر انہیں ضرور ملے گا اگر وہ سلسلہ کی خدمت کرنے والوں کی عزت نہیں کریں گے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ آئندہ لوگ دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف نہیں کریں گے کیونکہ یہ سلسلہ روحانی ہے اور اللہ تعالی ایسے لوگ ہمیشہ پیدا کرتا رہے گا جو دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر یہ ضرور ہو گا کہ جو لوگ معزز سمجھے جاتے ہیں خدا تعالی ان کو ذلیل کر دے گا۔دوسری طرف میرے نزدیک ہر چیز میں ایکشن اور ری ایکشن یعنی تأثیر اور تاثر کا ایک لمبا سلسلہ جاری ہے اور یہ تأثیر اور تاثر کا سلسلہ ابھی اتنا وسیع نظر آتا ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔میں نے اپنی زندگی میں جس سبق کو متواتر سیکھا ہے اور میں جس بات کو بچپن میں نہیں