خطبات محمود (جلد 3) — Page 43
خطبات محمود ۴۳ جلد سوم فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔نصیحت حاصل کرنے والا انسان تو ایک بچہ کی بات سے بھی نصیحت حاصل کر سکتا ہے لیکن نہ کرنے والا سید ولد آدم کی باتیں بھی سنتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہ اٹھا سکا تو توجہ سے سننے سے فائدہ ہوتا ہے۔ورنہ خواہ کوئی ساری عمر ایک ہی بات سنتا رہے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔دیکھو حضرت مسیح موعود نے جو دعویٰ کیا اس وقت اپنی صداقت کے ثابت کرنے کے لئے جو دلائل دیئے بعد میں ان کے علاوہ کوئی نئے دلائل نہیں پیدا کر لئے تھے۔آپ نے اپنے دعوی کے دلائل کی بنیاد ازالہ اوہام میں رکھی ہے مگر بہت لوگ ہیں جو اس کو پڑھ کر احمدی ہوئے۔اس کے بعد زیادہ پھر زیادہ احمدی ہوتے گئے اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلے لوگوں نے جو کچھ سنا اس پر غور نہ کیا لیکن بعد میں کسی نیکی کی وجہ سے توجہ کے ساتھ سنا اس لئے سمجھ آگئی۔یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے صداقت کو قبول کرنے سے خدا نے گناہوں کی وجہ سے محروم رکھا ہو لیکن بہر حال کوئی وجہ ہو اس میں شک نہیں کہ جو لوگ بعد میں احمدی ہوئے اور ہو رہے ہیں وہ اس لئے نہیں کہ انہیں حضرت مسیح موعود کی صداقت کی کوئی نئی دلیل معلوم ہوئی ہے۔دلیلیں تو وہی ہیں جو پہلے دی جاتی تھیں لیکن پہلے چونکہ ان پر توجہ نہیں کی جاتی تھی اس لئے فائدہ نہیں ہو تا تھا حتی کہ ایک دن آگیا جبکہ غور و فکر سے کام لیا گیا تو انہیں دلائل سے تسلی ہو گئی۔پس جب تک کسی بات کو توجہ سے نہ سنا جائے اس وقت تک اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا اور جب تک عمل نہ کیا جائے اس وقت تک اس سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔میں نے آج آپ لوگوں کو یہ نصیحت کی تھی کہ آج کا دن دعاؤں کی قبولیت کے لئے خاص فضیلت رکھتا ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔یہ گو میرا اپنا ذوق ہو یا رسول کریم ﷺ کی سنت ہو یا صلحائے امت جو گزرے ہیں ان کا طریقہ ہو اس کو ہم نہیں چھیڑتے مگر بہر حال کہنے والا جو تھا اس کے نزدیک تو یہ ایک ضروری اور قابل عمل بات تھی جن کو سنائی گئی تھی وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں یہ ان کے اپنے اختیار یا اعتقاد کی بات تھی یا کچھ ایسے لوگ ہوں جو عادت نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر تک بیٹھ کر دعا نہیں کر سکتے یا بیماری یا کسی اور وجہ سے نہیں بیٹھ سکتے لیکن انہیں یہ تو سمجھنا چاہئے کہ کہنے والا تو ضرور اس پر عمل کرے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا مگر افسوس ہے کہ عصر سے کچھ دیر پہلے مجھے ایک رقعہ ملا جس میں ایک بات کے متعلق جس سے نہ کوئی دینی فائدہ متصور ہو سکتا ہے نہ دنیوی۔کہا گیا ہے کہ اگر آپ عصر کے وقت تقریر کریں تو بہت احسان ہو گا۔گویا رقعہ لکھنے والے کے نزدیک میں دوسروں کو تو