خطبات محمود (جلد 3) — Page 40
خطبات محمود جلد سوم الہام ہوا اور دکھایا گیا کہ " یہ جو مسجد مبارک کے پاس مکان ہے۔اس میں ہم کچھ حسنی طریق سے داخل ہوں گے اور کچھ حسینی طریق سے "۔شہ بہت لوگ حیران تھے کہ اس الہام کا کیا مطلب ہے۔اور میں نے خود حضرت صاحب سے سنا آپ فرماتے تھے معلوم نہیں کہ اس الہام کا کیا مطلب ہے لیکن وقت پر معنی کھلتے ہیں۔اس کے ایک معنے تو یہ ہو سکتے ہیں کہ جس طرح اور جس طریق سے حضرت حسن اور حسین داخل ہوئے تھے اسی طرح ہم بھی داخل ہوں گے اور ایک یہ کہ ان کا رویہ اختیار کر کے ہم داخل ہوں گے۔اب ہم حضرت حسن اور حسین کے طریق کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے پہلے معنے تو ہو نہیں سکتے کیونکہ حضرت حسن نے یہ طریق اختیار کیا تھا کہ انہوں نے خلافت چھوڑ دی اور صلح کر کے اختلاف اور انشقاق کو مٹانا چاہا تھا لیکن حضرت حسین نے تلوار کے ذریعہ سے فتنہ کو فرد کرنے کی کوشش کی مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی اور وہ خود مارے گئے۔یوں تو وہ مومن تھے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جس غرض کے لئے انہوں نے کوشش کی وہ حاصل نہ ہوئی۔لیکن بظاہر دشمن نے ان پر غلبہ پالیا۔تو یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ جس طرح وہ داخل ہوئے تھے اسی طرح ہم بھی داخل ہوں گے۔بلکہ یہی ہوں گے کہ جو طریق ان کا تھا وہی ہمارا ہو گا کہ کچھ تو صلح کے ذریعہ اور کچھ لڑائی کے ذریعہ ہم اس مکان میں داخل ہوں گے۔چنانچہ یہ دونوں صورتیں پوری ہو گئیں۔لڑائی یعنی جلالی رنگ تو ایسا پورا ہوا کہ حضرت مسیح موعود کے اس الہام کے مطابق کہ اس مکان میں بیوائیں ہی رہا جائیں گی یہی حالت ہو گئی۔پھر جمال کا اظہار ہوا تو ایسا کہ اس خاندان میں سے جو ایک بچہ رہ گیا تھا اس کو کھینچ کر سلسلہ میں داخل کر دیا۔تو خدا تعالیٰ نے اس گھر پر جلال کا اظہار کیا تو ایسا کہ وہ گھر جس کی رونق ہمارے گھروں سے بہت زیادہ تھی اسے ایسا سنسان اور اجاڑ بنا دیا کہ وہاں اتو ہے اور واقعہ میں ہے۔پھر خدا تعالٰی نے جمال کے اظہار کے لئے ایک بچہ کو ان میں سے لے لیا اور حضرت مسیح موعود کی پناہ میں دے دیا۔پس وہ الہام دونوں پہلوؤں سے پورا ہو گیا۔اس وقت میں نے اس نشان کو اس تقریب پر بیان کیا ہے کہ میں مرزا گل محمد کی شادی کا اعلان کرنے لگا ہوں یہ مرزا نظام الدین کی اولاد میں سے ہے اور اس خاندان میں بلکہ دوسرے خاندانوں میں سے بھی جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی مخالفت کی صرف یہی بچا ہے اور کوئی نہیں بچا اور اس کے بچاؤ کی بھی یہی صورت ہوئی ہے کہ یہ کسی نہ کسی ذریعہ سے اس سلسلہ سے وابستہ ہو گیا ہے جس کے ساتھ وابستہ ہو کر اس وقت انسان خدا کے عذاب سے بچ سکتے