خطبات محمود (جلد 3) — Page 530
خطبات محمود ۵۳۰ ١١٩ جلد سوم تبرکات کے متعلق اصولی ہدایت فرموده ۱۹ اپریل ۱۹۴۰ء ۱۹ اپریل ۱۹۴۰ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مرزا عزیز احمد صاحب پسر مرزا عطاء اللہ صاحب ہیڈ کلرک ڈائریکٹر سرشتہ تعلیم لاہور کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر امتہ الرشید بیگم بنت جناب مرزا محمد شفیع صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ کے ساتھ پڑھا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ مسجد کے اس حصہ میں کھڑے ہو کر اعلان کروں جو ابتداء میں مسجد تھی اور میں نے اس خواہش کو منظور کر لیا ہے۔لیکن اس رنگ میں یہ آخری موقع ہے آئندہ کسی کی ایسی خواہش کو میں منظور نہیں کروں گا۔باقی مسجد بھی اسی کا حصہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ بھی کھڑے ہوتے رہے ہیں۔اس قسم کی باریکیاں آہستہ آہستہ بدعات پیدا کر دیا کرتی ہیں آج تو میں نے یہ بات مان لی ہے مگر آئندہ نہیں مانوں گا۔کسی وقت کوئی ذوقی بات ہو تو اور بات ہے ورنہ اس قسم کی خواہشات پیش کرنا صحیح نہیں اس مسجد کے ساتھ اور بھی جو حصے ملتے جائیں گے وہ بھی ویسے ہی بابرکت ہوں گے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الهام وسِعُ مَكَانَكَ سے پورا نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آپ کے گھر میں طاعون نہیں آئے گی۔تو کیا اس کے معنے یہ ہیں کہ آپ کے گھر میں اگر وسعت ہو تو اس میں آسکتی ہے یا کیا رسول کریم اے کی مسجد کا وہی حصہ بابرکت ہے جو ابتداء میں بنا یہ صحیح نہیں۔اس مسجد میں جہاں بھی نماز پڑھی