خطبات محمود (جلد 3) — Page 512
خطبات محمود ۵۱۲ جلد سوم اب یہ کیونکر ممکن تھا کہ ابو بکر اور وہ لوگ برابر ہو جائیں جو فتح مکہ کے وقت رسول کریم پر ایمان لائے۔بے شک رسول کریم ال کا عضو وسیع تھا، بے شک آپ نے انہیں کا يب عَلَيْكُمُ اليَوم کر دیا مگر لا تخريب عَلَيْكُمُ اليَوم کہنا بالکل اور چیز ہے اور ابو بکر اور عمر اور عثمان اور علی اور ان دوسرے صحابہ" کا مقام بالکل اور چیز ہے جو ابتدائی زمانہ میں رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے۔ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں کے مقام کا اندازہ تم اس سے لگا سکتے ہو کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اس دوران میں حضرت عمر میں ہویہ نے حضرت ابو بکر" پر ہاتھ ڈالا اور ان کا کپڑا پھٹ گیا۔حضرت عمر کو خیال گزرا کہ اگر رسول کریم ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع پہنچی تو آپ ناراض ہوں ہے۔ادھر کسی شخص نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابو بکر کو اس نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں جاتے دیکھا ہے حالانکہ حضرت ابو بکر اس وقت گھر گئے تھے۔رسول کریم ای کی خدمت میں نہیں گئے تھے۔یہ دوڑے دوڑے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے یا رسول الله الی آج مجھ سے ایک غلطی ہو گئی ہے میں ابو بکر سے لڑ پڑا ہوں۔اتنے میں کسی شخص نے حضرت ابو بکر بھی بیٹی کو جاکر خبر دی کہ عمر رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچ گئے ہیں اور خبر نہیں وہ بات کو کس رنگ میں بیان کریں۔حضرت ابو بکرہ بھی جلدی سے روانہ ہوئے اور رسول کریم ﷺ کی مجلس میں پہنچے۔جب آپ دروازے میں سے داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم اس کے چہرہ پر شدت غضب کے آثار ہیں اور آپ حضرت عمر کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو! کیا تم میرا اور اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑو گے جس نے مجھے اس وقت قبول کیا جب ہر شخص کے دل میں کبھی پائی جاتی تھی۔اور حضرت عمر نہایت رقت اور زاری کی حالت میں کہہ رہے تھے کہ یا رسول اللہ ﷺ میرا قصور تھا۔اتنے میں حضرت ابو بکر میں بھی آگے بڑھے اور وہ رسول کریم ان کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ا عمر کا تصور نہیں قصور میرا ہی تھا۔لے ان واقعات کو دیکھ کر سوچو کہ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی قربانیوں کو بھلا دیتا۔پس لا تخریب عَلَيْكُمُ اليوم نے ظاہر طور پر بے شک انہیں سزا سے بچالیا اور ان کی گردنیں کٹنے سے بچ گئیں مگر وہ عزت ان کو کیسے حاصل ہو سکتی تھی جو ان لوگوں کو حاصل تھی جو ابتدائی زمانہ میں رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے۔چنانچہ اس واقعہ پر کئی سال گزر گئے