خطبات محمود (جلد 3) — Page 509
خطبات محمود ۵۰۹ چاند سوم اجتماع بعض دفعہ ایسا عجیب ہوتا ہے کہ اسے دیکھ کر انسان حیران اور دنگ رہ جاتا ہے۔ایک ہی وقت میں انسان بہت خوش ہوتا ہے اور اسی وقت انسان بہت ہی غمگین ہوتا ہے۔مثلا رہی شادیاں جو ان دنوں ہمارے خاندان میں ہو ئیں ایسی ہی ہیں۔میری بچی کی شادی بھی ایسی ہی تھی۔آج جس بچی کی شادی ہے وہ بھی ایسی ہی ہے یعنی ان بچیوں کی مائیں ان کے بچپن میں ہی فوت ہو گئیں۔نصیرہ بیگم جس کی آج شادی ہے اس کی والدہ بھی بچپن میں فوت ہو گئی تھیں جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے کہ وہ کھیلتے ہوئے میرے پاس آئی اور کسی نے مجھے کہا کہ یہ تمہارے بھتیجے کی منگیتر ہے اور امتہ القیوم جو میری لڑکی ہے اس کی والدہ بھی فوت ہو چکی ہے سو ایسے خوشی کے اوقات میں قدرتی طور پر انسانی ذہن ان حالات کی طرف بھی چلا جاتا ہے اور یہ ایک عجیب قسم کے مخلوط جذبات ہو جاتے ہیں۔کبھی انسان اپنے ذہن میں ان باتوں کو لاتا ہے کہ اگر لڑکی کی والدہ زندہ ہوتی تو وہ کیسی خوش ہوتی اور کبھی انسانی ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اس بچی کے دل میں کیا خیال آتا ہو گا کہ اگر میری والدہ ہوتیں تو وہ آج کیسی خوش ہو تیں اور کبھی انسان کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ انسانی فطرت کو سب سے زیادہ صدمہ پہنچانے والی جو بات تھی وہ اس بچی کو پہنچی کیونکہ لڑکی کے لئے ماں کی وفات سے زیادہ صدمہ والی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔انسانی واہمہ خیال کرتا ہے کہ وہ ایک ہی زمانہ جو حقیقی آرام کا زمانہ ہے یعنی بچپن کا زمانہ جس میں انسان غم کو غم اور فکر کو فکر نہیں سمجھتا۔وہ زمانہ جو خدا نے باقی ساری دنیا کے لئے آرام کا زمانہ بنایا ہے وہ خدا کی کسی عظیم الشان مصلحت کے ماتحت اس بچی کے لئے غم کا زمانہ بن گیا۔پس دل ڈرتا اور انسانی قلب میں یہ واہمہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس بچی کا مستقبل بھی غمگین نہ ہو۔غرض عجیب قسم کے جذبات مخلوط ہوتے ہیں۔ایک طرف شادی ہوتی ہے اور ایک طرف انسانی واہمہ قسم قسم کی باتیں کر کے اس کے سامنے لاتا ہے۔کسی اور کا کیا ذکر ہے خود رسول کریم ﷺ کو ہی دیکھ لو کہ آپ نے کیسے تکلیف دہ حالات میں پرورش پائی آپ کے والد آپ کی پیدائش سے ہی پہلے فوت ہو چکے تھے اور آپ کی والدہ آپ کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد وفات پاگئیں اور آپ کامل طور پر یتیمی کی حالت میں آگئے۔اس کے بعد آپ کچھ عرصہ تک اپنے دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس رہے اور جب وہ وفات پاگئے تو اپنے چھا ابو طالب کی کفالت میں آگئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے ساتھ بڑی محبت اور پیار کا سلوک کیا اور آپ کے جذبات اور احساسات کا ہر طرح خیال رکھا مگر آپ کی اپنی