خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 505

خطبات محمود ۵۰۵ 112 جلد سوم اس وقت کی قدر کرو اور فائدہ اٹھاؤ (فرموده ۱۱ مئی ۱۹۳۹ء) ۱ مئی ۱۹۳۹ء آج حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب بی اے۔بیرسٹرایٹ لاء ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا نکاح سیدہ نصیرہ بیگم بنت جناب مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے خلف حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایسے رنگ میں بنایا ہے کہ بسا اوقات انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، وہ خیال کرتا ہے کہ اسے عروج حاصل ہو رہا ہے، وہ خیال کرتا ہے کہ وہ قدم بقدم آگے کی طرف بڑھ رہا ہے مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ اسے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ چیز جسے اس نے اپنا عروج سمجھا تھا در حقیقت اس کے زوال کی ابتداء تھی، جسے اس نے اپنی ترقی کی سیڑھی سمجھا تھا وہ اس کے گرنے کی تمہید تھی اور جسے وہ بڑھنا قرار دے رہا تھا در حقیقت وہ پیچھے لوٹنا تھا۔اس کا دل اس تصور سے خوشی محسوس کر رہا تھا کہ وہ سیدھا جارہا ہے وہ ایک ایسی سڑک پر چل رہا ہے جس میں کوئی غم نہیں لیکن جب وہ اس عمر کو پہنچتا ہے جو فکر اور شعور کی عمر کہلاتی ہے اور جس میں انسان غور کرنے کے بعد مختلف نتائج اخذ کرتا ہے تو یک دم اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ آگے کی طرف نہیں بڑھ رہا بلکہ پیچھے کی طرف لوٹ رہا ہے۔اس کی جوانی کی عمر کا جو بھی اندازہ ہو اور یہ اندازے مختلف ہوتے ہیں، کسی کی جوانی چالیس