خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 478

خطبات محمود ۴۷۸ جلد سوم مجید حضور کو دیا) اور حضور نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔وَإِنْ خِفْتُمُ الَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتُمى فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى وَثُلث وَرُبَعَ فَإِنْ خِفْتُمُ اللَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أو مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ - سے میں نے ان دوستوں سے کہا کہ شریعت نے جسے مقدم بیان کیا ہے میں بھی اسے مقدم ہی جانتا ہوں اور جسے مو خر یعنی بعد میں ذکر کیا ہے میں بھی اسے مئوخر ہی قرار دیتا ہوں۔قرآن مجید نہیں کہتا کہ ایک شادی کرو اور اگر اس کے بعد ضرورت پیش آئے تو ایک سے زیادہ شادیاں کرو۔بلکہ قرآن مجید نے مثنى وثلث اور ربع کو پہلے رکھا ہے اور پھر کہا ہے کہ اگر دو تین اور چار شادیاں کرنے سے تم پر خوف کی حالت طاری ہوتی ہو تو فَوَاحِدَةً ایک ہی شادی کرو۔تو ایک شادی کی اجازت اس صورت میں ہے جب کہ انسان کو خوف لاحق ہو۔ایک اور بات میں نے ان کے سامنے یہ پیش کی کہ رسول کریم ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آنحضرت ا کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔آج ایک اور دوست نے بھی ایک سوال پیش کیا ہے کہ اگر ہر مرد چار چار شادیاں کرنے لگ جائے تو اتنی عورتیں کہاں سے آئیں گی۔میں نے انہیں بتایا کہ یہ وہم اس لئے پیدا ہوا ہے کہ لوگ الا تَعْدِلُوا کے معنے نہیں سمجھتے۔قرآن کریم میں بڑی بڑی باریکیاں اور بڑی بڑی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔بعض لوگ قرآن کریم کے الفاظ کی باریکیاں اور حکمتیں نہیں جانتے اس لئے ان کے دلوں میں اس قسم کا وہم پیدا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ خِفْتُمُ الا تَعْدِلُوا یہاں عدل کے معنے تو انصاف کے ہی ہیں مگر لوگ غلطی سے اس کے معنی و اِن خِفْتُم اَلا تَعْدِلُوا بَيْنَهُنَّ کر لیتے ہیں کہ اگر تم عورتوں کے درمیان عدل نہ کر سکو تو پھر ایک ہی شادی پر اکتفا کرد حالانکہ یہ معنی صحیح نہیں بلکہ اللہ تعالٰی نے صرف یہ فرمایا ہے کہ اگر عدل نہ کر سکو تو پھر ایک شادی کی اجازت ہے۔عدل کی مختلف صورتیں ہیں مثلاً ایک آدمی کے پاس کھانے کو کچھ نہیں یا صرف دو روٹیاں اپنی بیوی کو کھانے کے لئے دیتا ہے اب اگر وہ دوسری شادی کرے گا تو لا زیادہ اپنی دونوں بیویوں کو ایک ایک روٹی کھانے کے لئے دے گا۔اب وہ کہے کہ میں نے دونوں کے درمیان عدل کیا تو یہ معنی عدل کے نہیں بلکہ عدل کے معنے یہ ہیں کہ اتنی روٹی دو جس سے پیٹ بھر جائے۔اگر ایک عورت کو دو روٹیوں کی بھوک ہے اور اسے ایک روٹی دی جائے تو یہ عدل