خطبات محمود (جلد 3) — Page 466
۶۶ جلد موم ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کا تجزیہ نہیں ہو سکتا۔تجزیہ اگر ہوگا تو برکات کا ہو گا اس لئے انہیں برکات الہیہ حاصل نہیں ہوتیں بلکہ وہ ان کے حصول سے محروم رہتے ہیں کیونکہ برکات تو جہاں جائیں گی مکمل صورت میں جائیں گی اور جب بھی انہیں تقسیم کیا جائے گا ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔جس طرح پانی کا ایک گلاس اگر کسی نے لینا ہو تو ضروری ہے کہ وہ گلاس بھی اٹھائے تب اسے پانی ملے گا۔اگر وہ پانی کو انگلیوں سے پکڑنا چاہے گا تو بہہ جائے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے نور کا حال ہے اور پانی تو پھر بھی سیال ہونے کے باوجود ایک کثیف چیز ہے خدا تعالیٰ کا نور بہت ہی لطیف ہے اس کو اگر کوئی شخص اپنے قلوب میں نازل کرنا چاہے تو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ اس کے سامنے کھڑا ہو جائے اور اسے لے لے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اس نور پر ہاتھ مارے تو اس کا کوئی حصہ اس کے ہاتھ میں آجائے۔اگر یہ اس قسم کی حماقت کرے گا تو اس کی ایسی ہی مثال ہو گی۔جیسے کہتے ہیں کہ کسی میراثی کے ہاں رات کے وقت کوئی چور آگیا اس نے بہتیرا تلاش کیا مگر اسے کوئی چیز نہ ملی۔اتفاقاً اسی تلاش میں وہ اس کمرہ میں گھس گیا جہاں میراثی سویا ہوا تھا۔آہٹ پاکر میراثی کی آنکھ کھل گئی اور اسے معلوم ہو گیا کہ چور اندر داخل ہے مگر وہ چپکا پڑا رہا اور مسکراتا رہا۔تھوڑی دیر کے بعد اسے اس کمرہ کے فرش پر ایک جگہ کچھ سفیدی سی نظر آئی دراصل اس کمرہ میں اندھیرا تھا اور دروازے کے اندر سوراخ سے چاند کی روشنی اندر پڑرہی تھی۔چور نے سمجھا کہ یہ آٹا پڑا ہوا ہے اسے خیال آیا کہ اگر اور کوئی چیز نہیں ملی۔تو چلو آٹا اٹھا کر ہی لے چلیں۔چنانچہ اس نے چادر بچھائی اور آٹا اٹھانے کے خیال سے اس نے اس نور کو ہاتھ جو مارا تو بے اختیار میراثی کی ہنسی نکل گئی اور وہ کہنے لگا "جمان کیوں تکلیف کر دے او ایتھے سانوں دنے کچھ نہیں ملدا تہانوں راتیں کی مل سکدا ہے "۔یہی مثال اس شخص کی بھی ہوتی ہے یہ بھی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا نور اپنے ہاتھ سے پکڑے حالانکہ وہ نور آنکھوں میں آتا ہے، وہ نور دماغ میں آتا ہے، وہ نور دل میں آتا ہے، کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں آتا اور وہ جب بھی آئے گا مکمل آئے گا اور اگر وہ اس کے کسی حصہ پر ہاتھ مار کر تمام نور اٹھانا چاہے گا تو بہہ کر سب نو ر اس کے پاس سے چلا جائے گا۔میرے سامنے اس وقت ایک مصری دوست (السید عبدالحمید آفندی خورشید آف قاہرہ) ہیں انہیں دیکھ کر مجھے مصر کا ایک لطیفہ یاد آگیا۔جب میں مصر گیا تو ایک دفعہ ہم کسی باہر کے مقام سے ریل میں بیٹھ کر آرہے تھے کہ کھانے کا وقت ہو گیا اور ہم ریل کے اس کمرہ میں