خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 32

خطبات محمود ۳۲ جلد سوم خاندان حضرت مسیح موعود کے متعلق ایک عظیم الشان نشان (فرموده ۴ ستمبر ۱۹۱۹ء) ۴۔ستمبر ۱۹۱۹ ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مرزا گل محمد صاحب ابن مرزا نظام دین صاحب کا نکاح رضیہ بیگم بنت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سے پڑھا۔خطبہ منسونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کیسا کمزور اور ناتواں ہوتا ہے۔وہ نہ اپنی ضروریات بیان کر سکتا ہے نہ اپنی تکالیف کہہ سکتا ہے نہ دوسروں کے خیالات سمجھ سکتا ہے۔خیالات تو ابھی اس میں پیدا ہی نہیں ہوئے ہوتے۔احساسات ہوتے ہیں۔وہ اپنے احساسات کو دو سروں تک نہیں پہنچا سکتا۔جاہل سے جاہل، ناران سے نادان، بیوقوف سے بیوقوف عورت جو اسے کھلاتی ہے خواہ وہ اس کی ماں ہو یا بہن یا نوکر۔وہ اس کی حرکات پر ہنستی ہے۔اس کی بے چارگی پر رحم کھاتی ہے اور اس کی مختلف حالتوں اور کیفیتوں پر استعجاب ظاہر کرتی ہے۔اس کے بعد جب وہ کچھ بڑا ہوتا ہے اور لوگ اس سے باتیں کرتے ہیں تو وہ تو تلی زبان سے بولتا ہے۔اس پر لوگ ہنتے اور تعجب کرتے ہیں۔پھر ہوتے ہوتے وہ اس عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ مدرسے جانے لگتا ہے۔پھر مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے کرتے اس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ اپنی کتا بیں روانی سے پڑھنے لگتا ہے۔پھر چونکہ