خطبات محمود (جلد 3) — Page 439
خطبات محمود کرکے ٣٩ سوم جلد سوم ماضی کے پہلو کو مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی ذہن کی تربیت کے لحاظ سے يُصلح لَكُمُ اعْمَا لَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ کے الفاظ بیان کئے گئے ہیں کیونکہ انسان پہلے مستقبل کو درست کرنے کا ارادہ کرتا ہے ماضی کے حالات بعد میں اس کے ذہن میں آتے ہیں اس لئے عمل صالح کو غفران ذنوب پر مقدم کیا گیا ہے۔اسی طرح يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا - میں جو اتقوا الله یعنی ماضی کے پہلو کو مقدم کیا گیا ہے اور مستقبل کے پہلو کو موخر کیا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خدا تعالی کی ترتیب ہے یعنی علاج کے طور پر چونکہ ماضی کا پہلو مقدم ہے اس لئے اس کو مقدم کیا گیا ہے اور مستقبل کا بعد میں ذکر کیا ہے۔علاج میں پہلے بیماری دور کی جاتی ہے پھر کمزوری دور کرنے کے لئے ٹانک دوا دی جاتی ہے سوائے اس بیماری کے جو اپنی ذات میں اتنی غالب ہو جو مریض کو موت کے گھاٹ اتارنے والی ہو۔پس خدا تعالٰی نے غفران کے لئے اتقوا اللہ رکھا ہے کہ گناہوں کے بخشوانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو یعنی اللہ تعالیٰ کو بطور ڈھال گناہوں کے مقابلہ میں رکھو تو خدا تعالیٰ خود ان کو دور کر دے گا۔ماضی کے گناہوں سے محفوظ ہونے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص پہاڑ کے نیچے کھڑا ہو کر اوپر پہاڑ کی چوٹی پر کوئی پتھر پھینکے تو لازما وہ پتھر کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اسی شخص کے پاس آجائے گا اور اس طرح کبھی بھی اس سے نہیں بچ سکے گا۔مگر جب انسان خدا تعالیٰ کو ڈھال بنالے گا تو پھر خدا تعالیٰ اس پتھر کو راستہ میں ہی روک لے گا اور اس تک نہیں آنے دے گا۔اسی طرح مستقبل کی درستی کے لئے قول سدید کو علاج رکھا ہے یعنی جب انسان تقوی اللہ اختیار کرنے سے محبت الہی دل میں پیدا کرتا ہے اور اس سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو آئندہ کی اصلاح کا یہ علاج ہے کہ انسان قول سدید اختیار کرے۔در اصل قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال کے متعلق ایسا پختہ فیصلہ کرو جس میں کسی قسم کا دھوکا و فریب نہ ہو۔قول سدید سچائی سے بڑا درجہ رکھتا ہے سچائی میں بعض اوقات کمی رہ جاتی ہے مگر سداد میں سچ ہی سچ ہوتا ہے کسی قسم کی کمی نہیں ہوتی۔پس صداقت اور سداد میں فرق ہے۔صداقت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ بات واقعہ کے مطابق ہو مگر سداد میں واقعہ کے مطابق ہونے کے علاوہ یہ بھی ہے کہ وہ صحیح بھی ہو۔صداقت کے معنوں میں دوسرے شخص کا عیب بیان کرنا بھی آجاتا ہے اور ہم اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ یہ سچ ہے مگر ہم اس کو قول سدید نہیں کہیں گے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک