خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ یورپین مصنفین شادی کو راحت کہتے ہیں مگر طلاق کا ان میں اس قدر رواج ہے کہ ہم تو سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔کئی دفعہ انگریزوں سے مجھے اس مسئلہ پر گفتگو کرنے کا موقع ملا ہے۔وہ یہی کہتے ہیں کہ انسان شادی اطمینان قلب کے لئے کرتا ہے اور کامل اطمینان اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جبکہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے شادی سے پہلے واقفیت پیدا کرلیں اسلام نے جو طریقے شادی کے متعلق بیان کئے ہیں وہ جہالت پر مبنی ہیں۔جب یہ صحیح ہے کہ شادی راحت کے لئے کی جاتی ہے تو اب یہ دیکھنا ہے کہ حقیقی راحت یورپین لوگوں کی شادیوں میں نظر آتی ہے یا اسلام کے احکام کے ماتحت ہونے والی شادیوں میں اور اگر اسلامی احکام کے مطابق شادی کرنے میں راحت ہے تو پھر ہمیں اس سے کیا کہ وہ راحت جہالت میں ہے ہمیں تو حقیقی راحت سے مطلب ہے۔جو سمجھدار ماں باپ لڑکے لڑکی کی شادی کرنے سے قبل مشورہ کرتے ہیں اور عقل سے کام لیتے ہیں ان کا مشورہ اگر اسلام کے بتائے ہوئے احکام کو مد نظر رکھ کر ہو تو اللہ تعالیٰ ان کو صحیح راستہ بتا دیتا ہے۔باپ بیٹے سے مشورہ کرتا ہے اور اسلامی احکام کے ماتحت ضروری حالات اسے بتا دیتا ہے تو چونکہ باپ سے بڑھ کر بیٹے کا کوئی اور خیر خواہ نہیں ہو تا اس لئے سعادت مند بیٹا باپ کی بات مان لیتا ہے اور باپ کے انتخاب کو پسند کر لیتا ہے۔چونکہ شادی کے نتائج بعد میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں اور بعد میں ہونے والے واقعات کا دارو مدار گزشتہ حالات پر ہوتا ہے اس لئے شادی کا معاملہ بڑا پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے مگر اس کا حل قرآن مجید میں موجود ہے اور رسول کریم ﷺ نے شادی کے موقع پر جن آیات کا انتخاب فرمایا ہے ان میں آتا ہے اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ له الله تعالی فرماتا ہے کہ انسان کے مستقبل کے حالات ماضی کے حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں اور میں چونکہ کلی طور پر ان حالات سے آگاہ ہوں اس لئے میں ہی ان کی اصلاح کر کے اچھا نتیجہ پیدا کر سکتا ہوں۔ایک کام انسان دس سال پہلے کرتا ہے مگر نتیجہ دس سال کے بعد نکلتا ہے۔نپولین اس وقت بھی نپولین تھا جب وہ بچہ تھا لیکن اس کی قابلیت کے نتائج اس وقت نکلے جب وہ جوان ہوا۔ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے۔”ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات"۔سالہا سال ایک چیز کی تربیت کی جاتی ہے تب وہ اپنی اصل حالت پر آتی ہے۔ایک موجد کی قابلیت کا سکہ اس وقت بیٹھتا ہے جب وہ بڑا ہو کر کوئی ایجاد مکمل کر لیتا ہے مگر تربیت اس کی بچپن سے ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ بڑا ہو کر قابل انسان ہے۔یورپ کے فلسفی فرائڈ سے نے اس بات پر بحث کی ہے کہ