خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 361

خطبات محمود جلد سوم رنگ میں فائدہ دیتی ہیں۔ان کی ہڈیوں سے فاسفورس اور نمک اور کئی اجزاء حاصل ہوتے ہیں پھر ان سے کھیتوں کے تیار ہونے میں بھی مدد ملتی ہے۔پس مرنے والے کی صرف شکل بدل گئی ہے ورنہ اس کے بعض حصے چونکہ ابھی نفع رساں ہیں اس لئے اسے فنا نہیں کیا گیا۔فناوہی چیز ہوتی ہے جو بے نفع ہو جاتی ہے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز نفع رساں ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان کو انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے تو معلوم ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز فنا کے قابل نہیں وہ اینٹ، روڑے اور گھاس پھوس جسے ہم بے فائدہ سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر مقصد اور فائدہ رکھتے ہیں ورنہ اللہ تعالی انہیں پیدا ہی کیوں کرتا اور اگر ان کی غرض و غایت ختم ہو جاتی تو انہیں قائم ہی کیوں رکھا جاتا۔میں نے ایک دفعہ اس مسئلہ پر غور کیا تو اس سے دنیا کی عمر کا اندازہ لگا لیا۔میں نے دیکھا کہ پہاڑوں کی غاروں میں اور ان کی چوٹیوں پر ہزار ہا قسم کی گھاسیں اور جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔اور سوکھ کر گر جاتی ہیں جن سے کوئی انسان فائدہ نہیں اٹھاتا۔ہزاروں لاکھوں ٹن پانی آسمان سے گرتا ہے جس میں سے قلیل حصہ انسان کے کام آتا ہے باقی سب کا سب سمندر میں جاگرتا ہے۔ایک لمبا سلسلہ پہاڑوں کا ہے جن میں ہزار ہا غاریں ایسی ہیں جو میلوں زمین کی سطح میں دھنس گئی ہیں ان تمام چیزوں کو میں نے دیکھا اور غور کیا کہ جب قرآن کریم سے معلوم ہوتا کہ ساری چیزیں ہم نے دنیا کے استعمال اور فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں تو آخر یہ کیوں ہو رہا ہے۔کیا اس وجہ سے اللہ تعالٰی پر کوئی اعتراض نہیں آتا کہ اس نے اتنی چیزیں بے فائدہ پیدا کی ہیں اور اعتراض کرنے والے یہ اعتراض کرتے بھی ہیں۔ہزاروں فلاسفر دنیا میں ایسے ہیں جو یہ اعتراض کرتے بھی ہیں کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پیدا ہونے والی گھاس، تہہ خانوں میں مرنے والے کیڑے مکوڑے، ہزاروں قسم کے پرندے جو کبھی انسان کے کام نہیں آتے یہ سب اللہ تعالٰی نے کیوں پیدا کئے ہیں۔میں نے اس مسئلہ پر غور کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ جس مذہب نے دی ہے کہ انسان کی غذا اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے مشترک بنائی ہے وہی اس عقدہ لا نخل کو حل کر سکتا ہے۔وہ مذہب جو صرف حیوانی غذا تجویز کرتا ہے یا نباتاتی غذا تجویز کرتا ہے وہ اسے حل نہیں کر سکتا۔وہ مذہب جو یہ کہتا ہے کہ روحیں آسمان سے گرتی ہیں وہ بھی اسے حل نہیں کر سکتا۔