خطبات محمود (جلد 3) — Page 311
خطبات محمود ۳۱۱ میاں اور بیوی کا تعلق پیدا ہو گیا مگر یہی نہیں ہو تا بلکہ میاں اور بیوی کے ماں باپ بھی اس تعلق میں شامل ہوتے ہیں، ان کے بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار بھی شامل ہوتے ہیں، پھر آگے دوست وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک قصہ سنایا کرتے تھے اس میں ذکر تو ایک جانور کا ہے مگر نصیحت کے طور پر بطور مثال بیان کیا گیا ہے۔کہتے ہیں کسی کا ریچھ کے ساتھ دوستانہ تھا۔اس شخص کی بیوی روز اسے برا بھلا کہتی کہ ریچھ سے دوستانہ کا کیا مطلب کبھی غصہ میں آکر اس نے ریچھ کے سامنے بھی ایسی باتیں کہیں جن میں ریچھ کی تحقیر کی گئی۔ایک دن ریچھ نے اپنے دوست سے کہا میرے سر پر کلہاڑا مارو اس نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے میں تو تمہیں اپنا دوست سمجھتا ہوں۔ریچھ نے کہا نہیں میں جو کہتا ہوں تم ضرور مارو آخر اس نے اسی طرح کیا اور ریچھ زخمی ہو کر چلا گیا۔کچھ عرصہ کے بعد آیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا میرے سر کو دیکھو وہ زخم کہاں ہے؟ اس نے دیکھا تو معلوم ہو ا ز خم مندمل ہو چکا ہے۔ریچھ نے کہا دیکھو وہ زخم تو مٹ گیا مگر تمہاری بیوی نے جو باتیں کہی تھیں ان کا زخم ابھی تک ویسا ہی ہے۔یہ ایک قصہ ہے پرانے زمانہ میں لوگ بادشاہوں اور امراء کے ڈر سے کہ وہ تشدد نہ کریں ان کے ناموں کی بجائے جانوروں کے نام رکھ لیا کرتے تھے۔غرض بیاہ شادی کا اثر دوستوں پر بھی پڑتا ہے۔ایسی بیویاں ہوتی ہیں جو دوستیاں تڑوا دیتی ہیں یا بنا دیتی ہیں۔پھر محلہ والوں پر شادی کا اثر پڑتا ہے۔کوئی عورت محلہ میں ایسی آجاتی ہے جس سے سب محلہ والے تنگ ہو جاتے ہیں اور کوئی ایسی آتی ہے کہ سب خوش ہوتے ہیں۔پھر اولاد کے لحاظ سے ے اثرات بہت وسعت اختیار کر لیتے ہیں۔کوئی اولاد اچھی ہوتی ہے اور کوئی بری، کوئی ماں باپ کے نام کو روشن کر دیتی ہے اور کوئی ان کے لئے سامان ندامت پیدا کرتی ہے۔مجھے ہمیشہ خیال آیا کرتا ہے کہ ابو جہل کے ماں باپ کی جب شادی ہوئی ہوگی تو بڑی دھوم دھام سے ہوئی ہوگی کیونکہ ان کا خاندان وجاہت کے لحاظ سے بڑے پایہ کا خاندان تھا اس دھوم دھام کا دسواں حصہ بھی رسول کریم کے والدین کی شادی پر نہ ہوا ہو گا کیونکہ آپ کا خاندان مذہبی طور پر معزز سمجھا جاتا تھا دنیوی لحاظ سے ابو جہل کے خاندان جتنا اثر حاصل نہ تھا۔اس وقت کسی کو کیا پتہ تھا کہ ابو جہل کے والدین کی شادی کا کیا نتیجہ نکلے گا اور رسول کریم ﷺ کے والدین کی شادی کا کیا۔تو شادی کے آئندہ جا کر بھی وسیع اثرات پیدا ہوتے ہیں۔