خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 297

خطبات ۲۹۷ چنده منو کے وہ سب کے سب "نا" میں جمع ہو جاتے اور پھر ایسے رشتے جوڑتے ہیں۔الا ماشاء اللہ جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور وہ آپس میں بہت ہی محبت و پیار سے رہتے ہیں۔ہندوستانی شرفاء میں یورپین عورت سے شادی تک سمجھی جاتی ہے اور یورپین لوگ بھی ہندوستانی عورت سے شادی پسند نہیں کرتے۔مگر ہماری جماعت میں یہ بھی تمیز نہیں۔پھر نہ پنجابی ہندوستانی کو حقیر سمجھتا ہے اور نہ ہندوستانی پنجابی کو ذلیل خیال کرتا ہے ان سب میں صرف یہی جوڑ ہے کہ وہ اتنا کہ چکے ہیں اور اس لئے نسب میں ایک رشتہ قائم ہو گیا ہے۔ہماری جماعت کے رشتے بھی ایک نشان ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہیں۔ایک شدید مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے پاس آیا اور بڑی شوخی سے کہنے لگا آپ مجھے نشان رکھا ئیں۔آپ نے فرمایا تم خود میری صداقت کا نشان ہو۔ت جب کوئی میرا اور قادیان کا نام بھی نہ جانتا تھا مجھے خدا تعالٰی نے خبردی تھی یا تیگ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيق - شے کہ لوگ دور دور سے تیرے پاس چل کر آئیں گے اور تم چل کر آئے ہو اس لئے میرا نشان ہو۔دراصل توجہ کا ہونا خواہ وہ مخالفت کے رنگ میں ہی ہو خدا کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔مولوی یار محمد ہمیشہ مجھے لکھتا رہتا ہے کہ تم میری طرف توجہ کیوں نہیں کرتے اور نہیں تو مخالفت ہی کرد - چکڑالویوں کا ایک رسالہ نکلتا ہے جس کے ایڈیٹر مولوی حشمت علی ہیں انہوں نے مجھے لکھا میں چھ ماہ سے رسالہ آپ کو بھیج رہا ہوں مگر آپ اس کے متعلق الفضل میں کچھ بھی نہیں لکھتے۔آپ تائید نہ کریں خلاف تو لکھیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شدید مخالفت ہوئی اور یہ بھی آپ کے صداقت پر ہونے کا ثبوت ہے۔اگر انسان آنکھیں کھول کر دیکھے تو ہر وہ چیز جو آپ سے نسبت رکھتی ہے ایک نشان ہے۔میں لکھو گیا۔وہاں ندوہ میں ایک مولوی عبد الکریم سلسلہ کے سخت مخالف تھے مگر میرے جانے سے انہوں نے مخالفت کا خاص سلسلہ شروع کر دیا۔وہ با قاعدہ لیکچر دینے لگے۔ایک لیکچر میں انہوں نے کہا مجھ سے مرزا حیرت نے بیان کیا کہ مرزا صاحب جب دہلی میں آئے تو میں جعلی طور پر انسپکٹر پولیس بن کر ان کے مکان پر گیا اور کہا مرزا صاحب کو فور ابلاؤ میں ملنا چاہتا ہوں۔کسی نے کہا وہ اس وقت کھانا کھا رہے ہیں۔میں نے کہا کوئی پروا نہیں میں انسپکٹر پولیس ہوں اور فوراً ملنا چاہتا ہوں۔مرزا صاحب نے میری یہ بات سن لی اور ننگے سر ہی دوڑتے ہوئے آئے اور جلدی جلدی اترنے کی وجہ سے ان کا پاؤں پھسل گیا اور گر پڑے۔یہ واقعہ بیان کر کے وہ