خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 249

خطبات محمود ۲۴۹ جلد موم دنیا میں گزرے ہیں جن کو لوگوں نے ظالم کہہ کر مار دیا لیکن بعد میں آنے والے لوگوں نے ان کے حالات پڑھ کر یہی کہا کہ ان کے کام اچھے تھے لوگوں نے ناحق مار دیا۔اس سے معلوم ہوا کہ انہیں جو ڑا رعیت نہ ملی تھی۔وہ دراصل اپنے وقت سے بہت پہلے پیدا ہو گئے تھے یہ اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کا جوڑا کہاں ہے۔بعض وقت خاوند کسی ملک کا ہوتا ہے اور بیوی کسی علاقہ کی لیکن ان میں ایسی محبت ہوتی ہے کہ لوگ رشک کرتے ہیں دنیا ان سے ناراض بھی ہوتی ہے وہ دوسروں سے لڑائیاں بھی کرتے ہیں مگر آپس میں وہ جوڑا ہوتا ہے اور انہیں دنیا کی کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی اور یہ وہ جوڑا ہوتا ہے جسے خدا نے ملا دیا۔رسول کریم کے لئے خدا تعالی نے جوڑے تلاش کئے تھے۔حضرت عائشہ کے متعلق تو خدا تعالٰی نے آپ کو دکھا دیا کہ یہ تیرا جوڑا ہے۔حضرت خدیجہ کے متعلق بھی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا تلاش کردہ جو ڑا تھا۔گو اس کے متعلق کوئی خواہیں وغیرہ تو نہیں ملتیں لیکن حالات ایسے ہیں۔کہاں خدیجہ کی طرف سے تجارت پر جانا اور کہاں ان کی طرف سے شادی کا پیغام دیا جانا اور پھر آپ کا باوجود اس کے کہ آپ سے وہ پندرہ برس بڑی تھیں اس کو منظور کر لینا۔پھر شادی کے بعد ایسے اچھے تعلقات کا ہونا کہ حضرت خدیجہ نے اپنی تمام جائداد آپ کے سپرد کردی حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ اگر آپ انہیں علیحدہ کر دیں گے تو وہ کچھ نہیں کر سکیں گی۔پس ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو ڑا مل گیا تھا۔پھر حضرت صفیہ نے بیان کیا کہ میں نے بچپن میں خواب دیکھا تھا کہ چاند میری گود میں آپڑا ہے اور جب میں نے اپنے باپ کو یہ سنایا تو اس نے میرے منہ پر تھپڑ مارا کہ کیا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔پھر حضرت عائشہ جوانی میں بیوہ ہو گئیں اور ایسی حالت میں عورتوں کو عام طور پر خاوند پر غصہ ہوتا ہے کہ اس عمر میں شادی کیوں کی مگر حضرت عائشہ کو دنیا کی نہر خوبصورتی میں رسول کریم ﷺ کا ہی چہرہ نظر آتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ جوڑا خوب ملا تھا۔پس حقیقتاً خدا تعالی ہی جوڑے ملاتا ہے۔اس لئے خدا تعالٰی سے استخارہ کرنا چاہئے کہ صحیح جوڑے ملائے اور نیک سامان کر دے قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔وَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَر لَكُم - سے پس کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر اچھی ہوتی ہیں مگر خدا کے ہاں وہ اچھی نہیں ہوتیں۔اسی طرح بظاہر چیزیں اچھی نہیں نظر آتیں لیکن حقیقت میں وہ بہت مفید ہوتی ہیں۔پس چاہئے کہ انسان اپنے آپ کو خدا