خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 8

جلد موم خطبات محمود شاخ میں نقص ہوتا ہے۔بعض لوگ کسی بڑے شخص کے مقابل ٹھیک ٹھیک گواہی دینے میں تامل کرتے ہیں اور بعض صحیح فیصلہ نہیں دیتے حالانکہ حج کو چاہئے کہ وہ شہادتوں کے مطابق فیصلہ کر دے۔اس سے کچھ غرض نہیں کہ اس فیصلہ کا اثر کس پر پڑتا ہے کس پر نہیں پڑتا۔میں کہتا ہوں کہ جب تک جماعت میں یہ رنگ نہیں آئے گا یہ مت سمجھو کہ وہ مضبوط چٹان پر آگئی۔یہ بدی اگر باقی رہی تو ترقی کرتی کرتی اگلی نسلوں کو تباہ کر دے گی۔پس ابھی سے اس کا فکر رم ہے۔مثلاً خلیفہ ہے وہ تجارت کرتا ہے۔ممکن ہے کہ لین دین میں جھگڑا ہو۔اب جو جج مقرر ہوگا اسے چاہئے کہ شہادتوں کی بناء پر فیصلہ کر دے۔بعض لوگوں کی یہ اخلاقی کمزوری ہے وہ سمجھتے ہیں کیا ہم خلیفہ کے خلاف فیصلہ کر کے اسے جھوٹا ٹھہرا ئیں حالانکہ یہ غلطی ہے۔کیونکہ حساب کی غلطی اور بات ہے اور کسی امر کا فی الواقع ہونا کچھ اور بات ہے۔مثلاً زید نے ایک شخص سے سو ۱۰۰ روپے لئے زید کہتا ہے کہ میں اسے سب ادا کر چکا ہوں۔وہ شخص کہے کہ میں نے نوے لئے تو یہ بہر صورت جھوٹ نہیں بلکہ حساب کی غلطی بھی ہو سکتی ہے۔اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو اصلاح کے قابل ہیں۔جب تک ایسی طاقت پیدا نہ ہو جائے کہ مومنین اپنے اوقات کو بہترین طور پر خرچ کریں اور صدق و سداد پر قائم ہو کر دلیری سے کام لیں بات نہیں نتی یاد رہے کہ بے ادبی اور دلیری میں فرق ہے۔حق کا بیان اور گستاخی یہ بھی الگ الگ ہے بعض اوقات دلیری بے ادبی ہو جاتی ہے اور کمزوری بھی۔مثلاً ایک شخص سے پوچھا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں تمہاری کیا رائے ہے۔اب وہ بولتا نہیں کہ یہ بے ادبی ہے۔تو یہ نہ بولنا در حقیقت بے ادبی ہے ایک اور شخص ہے وہ بلا پوچھے رائے زنی کرنا اور بولنا شروع کر دے تو یہ دلیری بے ادبی ہے۔غرض صداقت کا اظہار اور ادب ضدین نہیں۔اسی طرح کمزوری اور ادب ایک چیز نہیں۔وقت کو عمدگی سے خرچ کرو۔عمدگی کے یہ معنے نہیں۔کہ ایک انسان چوبیس گھنٹے لگا رہے بلکہ وہ وقت سے عمدہ طور پر کام لے اور تھوڑے وقت میں کوئی نتیجہ خیز کام کرے۔جن لوگوں کو خدا کی طرف سے کوئی سرداری عطا ہوئی ہے ان کا ادب رکھے اور ضرور رکھے مگر موقعہ کا لحاظ رکھے جیسا کہ میں نے سمجھایا ہے۔ایسی کئی ایک باتیں ہیں میرا منشاء ہے کہ ان میں اصلاح ہو۔اللہ اگر چاہے تو میرے ہاتھ سے کر دے یا کسی اور سے۔غرض جس سے وہ چاہے کرائے۔میری خواہش ہے کہ اصلاح ہو جائے۔اپنی عمر کے متعلق میں تو کچھ یقین