خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 6

خطبات محمود جلد سوم شخص سے نکاح کر دو۔ابھی تو کہہ رہا تھا آپ کے سپرد۔ابھی کہنے لگا کہ حضور وہ تو بوڑھا ہے۔فرمایا اچھا فلاں سے نکاح کر دو۔کہنے لگا اس میں تو فلاں عیب ہے۔پھر تھوڑے دنوں بعد آکر کہا کہ فلاں شخص سے سمجھوتہ کیا ہے حضور نکاح کر دیں۔فرمایا احمد نور پٹھان سے نکاح کر دو۔اس نے قبول نہ کیا اور جہاں جی چاہتا تھا وہیں نکاح کر دیا۔حضور نے اس نکاح کے چھوہارے بھی نہ لئے۔پھر میں دیکھتا ہوں یہ سلسلہ خلفاء کے ساتھ بھی چلا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی ایسے کئی واقعات ہوئے اور حضرت مولوی صاحب نے علی الاعلان ایسے لوگوں کا ذکر کیا۔معلوم نہیں ایسے لوگ خلفاء کو بھی شاید نائی (حجام) ہی سمجھتے ہیں۔اگلے زمانہ میں تو نائیوں کی بھی کوئی بات رد نہیں کرتا تھا مگر آج کل آزادی کا زمانہ ہے اب کچھ کچھ اس کے خلاف بھی کر لیتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے یہ لوگ بھی خلیفہ کو وہی پوزیشن دینا چاہتے ہیں کہ مرضی ہوئی تو مان لیا ورنہ خیر۔معلوم نہیں ایسے لوگوں سے کہتا کون ہے کہ تم ضرور خلیفہ کی معرفت نکاح کرو۔اگر وہ اپنی مرضی پر چلنا چاہتے ہیں تو پھر خود بخود جو جی چاہے کریں۔یہ عذر بھی بیہودہ ہے کہ ہو سکتا ہے خلیفہ جہاں نکاح کرتا ہے اس کا نتیجہ اچھا نہ نکلے۔ہم کہتے ہیں کہ سینکڑوں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ماں باپ نے بڑی تحقیقات کے بعد نکاح کیا اور جھگڑا ہو گیا یا انجام اچھا نہ ہوا۔میاں بی بی میں ناموافقت ہو گئی یا اور کوئی بپتا پڑگئی۔پس یہ عذر تو غیر معقول ہے اگر وہ صدق و سداد سے کام لیں تو انشاء اللہ ایسے نکاح بہت ہی بابرکت ہوں گے مگر لوگ نہیں سوچتے اور نافرمانی کرتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ اب تیسرا شروع ہے اور اس میں بھی ایسے آدمی پائے جاتے ہیں پہلے کہتے ہیں کہ یہ ہماری بیٹی آپ ہی کی بیٹی ہے اس کا نکاح جہاں حضور چاہیں کر دیں۔مگر جب کہا گیا کہ فلاں جگہ کر دو تو کسی اور کا نام لے کر کہتے ہیں کہ فلاں جگہ ہم نے سوچی ہے وہاں حضور کی اجازت سے کرتے ہیں۔یہ صدق و سداد کی بات نہیں۔موجودہ نکاح اس سے مستثنیٰ ہے یہ جمال الدین ہیں انہوں نے لکھا تھا آپ جہاں چاہیں کر دیں۔میں نے ایک شخص کا نام لیا تو انہوں نے کہا مجھ سے کیا پوچھتے ہیں میں تو آپ ہی کے سپرد کر چکا۔اسی طرح جب میں نے مہر پوچھا تو کہنے لگے کہ میں تو آپ ہی کے سپرد کر چکا ہوں۔یہ اخلاص کا اچھا نمونہ ہے۔میرا یہ منشاء نہیں کہ سب نکاح میرے ذمے ہی ڈال دیں مگر جو از خود مجھے کہتا ہے اور معاملہ کو میرے سپرد کرتا ہے تو پھر اسے یہ مد نظر رہنا چاہئے کہ اب جو کچھ کہا جائے اسے مان لے۔دیکھو تمہاری بیعت کی شرائط میں سے یہ نہیں کہ