خطبات محمود (جلد 3) — Page 190
خطبات محمود 19۔چند سوم خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور تمام ظالم و سفاک لوگ ایک خاندان سے تھے۔اس قدر تحقیقات ہوئی ہیں کہ دو شخص انگلستان سے ہجرت کر کے امریکہ گئے۔وہاں ایک کی اولاد سے اس وقت تیرہ سو کے قریب افراد موجود ہیں اور دوسرے کی اولاد سے بارہ سو موجود ہیں۔پہلے شخص کی اولاد سے اس وقت ۱۱۹۵ آدمی ایسے ہیں جو گریجویٹ ہیں اور مختلف عہدوں پر ممتاز ہیں۔ان میں سے کئی تو کالجوں کے پرنسپل ہیں۔کئی بڑے بڑے بنکوں کے افسر ہیں۔کئی وزراء ہیں اور صرف 100 ایسے آدمی ہیں جو معمولی درجہ کے ہیں۔مگر دوسرا خاندان جس میں دماغی نقص تھا سوائے دس آدمیوں کے باقی سب ایسے ہیں جو یا تو جیل خانوں میں قید ہیں یا پھر پوئر ہو سر (Poor Houses) میں داخل ہیں۔کئی چور ہیں، کئی ٹھگ ہیں۔اسی طرح ایک شخص کا پتہ لگا ہے کہ اس کے خاندان میں ۴۰۰ یا ۵۰۰ کے قریب افراد ہوئے وہ تمام مجرم پیشہ ہیں۔اب ان کی وجہ سے سوال پیدا ہوا ہے کہ آئندہ انہیں شادی نہ کرنے دی جائے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایک شادی کا اثر کہاں تک پہنچتا ہے۔پس ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ ایسے امور میں تقویٰ اللہ کا بہت زیادہ خیال رکھے۔یہ پہلا سبق ہے جو اسلام نے نکاح کے متعلق سکھایا ہے۔انسان کے چونکہ نکاح کے بعد بنی نوع انسان سے تعلقات وسیع ہوتے ہیں اس لئے دوسرا سبق نکاح سے یہ ملتا ہے کہ انسان رشتوں کے اعزاز کو مد نظر رکھے اور کوشش کرے کہ تعلقات بڑھیں گئیں نہ۔باہمی تعلقات کی وجہ سے بھی انسان کی عزت و عظمت میں فرق پڑ جاتا ایک شاعر کہتا ہے کہ ہم عزیز ہیں اس لئے کہ ہمارے ارد گرد کے لوگ بھی عزت والے ہیں۔مگر (اے مخاطب) تم ذلیل ہو کیونکہ تمہارے ارد گرد کے لوگ ذلیل ہیں۔پس جس کی رشتہ داریوں کی وجہ سے ذلت ہو وہ بہت ہی ذلیل ہے۔اسلام بتاتا ہے کہ مومن کو رحموں کے تعلقات کے اعزاز کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور ان سے کوشش کرنی چاہئے کہ باہمی تعلقات زیادہ خوشگوار ہوں لیکن ہندوستان میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لڑکی والے کوشش کرتے ہیں کہ لڑکے کو ماں باپ سے علیحدہ کرا دیں اس کے لئے بہت جھگڑے ہوتے ہیں۔میرے پاس بھی کئی جھگڑے آتے ہیں حالانکہ ماں باپ نے جو سلوک کیا ہوتا ہے وہ معمولی نہیں ہوتا۔بچہ کے لئے ماں باپ جو قربانیاں کرتے ہیں ان کا بدلہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔پس دوسرا سبق مومن کو نکاح میں اسلام یہ دیتا ہے کہ وہ تعلقات کے اعزاز کو مد نظر رکھے۔لڑکی والے لڑکے والوں کو