خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 182

خطبات محمود IAF۔جلد سوم یونہی چھوڑ دوں۔غرض کئی قسم کے بہانے بناتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں اسے چھوڑنے کے لئے تو تیار ہوں مگر میرے لئے مجبوریاں ہیں۔حالانکہ وہ مجبوریاں نہیں ہوتیں۔کیا اگر کوئی غلطی سے زہر خرید لائے تو اس کو اس کے لئے کھالے گا کہ اس پر اس کے روپے خرچ ہوئے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ اسے جو بتائے گا کہ یہ زہر ہے مت کھانا اس کا شکریہ ادا کرے گا اور اسے روپیہ بطور انعام دے گا۔اصل بات یہ ہے کہ انسان جس امر کو اپنا مقصد قرار دے لیتا ہے پھر اس کو چھوڑتا نہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مقاصد پر زور دیا ہے یہ نہیں کہا کہ یہ نہ کرو اور یہ کرو بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ مقصد رکھو اور یہ نہ رکھو۔کیونکہ جو کچھ کوئی انسان کرتا ہے مقصد کے ماتحت ہی کرتا ہے دیکھو چوری، فریب، دھوکا، ظلم وغیرہ بذات خود کچھ نہیں بلکہ یہ نتیجہ ہوتے ہیں اس مقصد کا جو انسان کے قلب میں پیدا ہوتا ہے۔جس طرح روشنی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ نام ہے گیس کے خاص طور پر جلنے کا، جس طرح بخار کچھ نہیں بلکہ یہ نام ہے حرارت کے تیز ہو جانے کا اسی طرح عمل بھی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ نتیجہ ہوتا ہے قلب میں پیدا ہونے والے ارادہ کا۔یہی وجہ ہے کہ ایک شخص اگر کسی کو مارتا ہے تو اسے ظالم کہا جاتا ہے۔لیکن اگر ایک ایسا شخص جس کی نیت مارنے کی نہیں ہوتی اس سے اگر کسی کو صدمہ پہنچ جاتا ہے تو اسے ظالم نہیں کہا جاتا۔بعض دفعہ غلطی سے ہڈی بھی ٹوٹ جاتی ہے مگر اسے کوئی ملامت نہیں کرتا اور دوسرا اگر معمولی ٹھوکر سے بھی مارے تو اسے ملامت کی جاتی ہے۔بات یہ ہے کہ فعل کے نتیجہ کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ نیت دیکھی جاتی ہے۔اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ لے کہ جیسی انسان کی نیت ہوتی ہے ویسی ہی کام کی حقیقت ہوتی ہے۔لوگوں نے اس بات پر بحث کی ہے کہ اگر وضو کی نیت سے وضو نہ کیا تو وضو ہو جائے گا یا نہیں۔مگر رسول کریم ﷺ کے ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی نیت کر کے وضو نہ کرے گا تو اس کے ہاتھ منہ صاف ہی نہ ہوں گے اور جس فعل کی نیت نہ کی جائے اس کا کوئی نتیجہ ہی نہیں نکلے گا۔نتیجہ تو نکلے گا لیکن آگے نیت کے مطابق اس کا بدلہ ملے گا۔پس نیتوں اور ارادوں کے ساتھ اعمال کا ثواب و عذاب ملتا ہے اور ان ہی کے ماتحت قدر ہوتی ہے یا بے قدری کی جاتی ہے۔دنیا میں بہت سے لوگ شادیاں کرتے ہیں مگر ان کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ خدمت دین کے لئے شادی کریں مگر اتفاقاً ایسا ہو جاتا ہے کہ بیوی نیک اور دیندار مل جاتی ہے یا میاں نیک اور