خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 2

خطبات محمود شادی بیاہ کے معاملات میں صدق و سداد سے کام لینا چاہئے (فرموده ۲۷ مارچ ۱۹۱۵ء) ۲۷ مارچ ۱۹۱۵ء کو بعد نماز مغرب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے باوجود ضعف و علالت قاضی عبدالحق صاحب و محمد بی بی بنت مکرم جمال الدین صاحب گوجرانوالہ کے نکاح کا خطبہ پڑھا۔خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اسلامی سنت تو یہی ہے کہ خطبہ کھڑے ہو کر پڑھا جائے ( حضور اس وقت کرسی پر بیٹھے تھے) مگر میں کچھ دنوں سے بیمار ہوں کھڑا نہیں ہو سکتا۔آج کئی دنوں کے بعد یہ نماز ہے جو میں نے کھڑے ہو کر پڑھی ہے۔میرا دل چاہتا تھا کہ اس نکاح کا خطبہ میں خود ہی پڑھوں۔میرے حلق میں کچھ تکلیف ہے۔آواز بلند نہیں۔ممکن ہے اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ایسی توفیق دے نکاح میں آنحضرت ا جو آیات پڑھا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قولوا قولا سديدا له کچی بات پکی بات، مضبوط بات، اصلاح والی بات، نیکی والی بات کرو۔نکاح میں لوگ جھوٹ بہت بولتے ہیں۔طرفین اپنے اغراض کو پورا اور اپنے مدعا کو حاصل کرنے کے لئے قطعاً اس بات کو نہیں دیکھتے کہ ہمارے اقوال ہمارے ولی خیالات کے موافق ہیں یا نہیں ایک غرض مد نظر ہوتی ہے۔اس کے حصول کے لئے جس قسم کی باتیں بنانی پڑتی ہیں بنا لیتے ہیں۔لڑکے والا لڑکی والوں کو یقین دلاتا ہے کہ میں اس دن کے بعد تمہارا غلام ہوں چنانچہ اسی