خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 140

خطبات محمود ۴۲ جلد سوم قادیان ہر احمدی کا وطن ہے (فرموده ۸ فروری ۱۹۲۳ء) سید محمد یوسف صاحب عرائض نولیس حصار تا بین مولوی سید احمد حسین صاحب ساکن مظفر نگر کے نکاح ہمراہ مسماۃ امتہ الحفیظ بنت مولوی اللہ دتہ مرحوم ساکن جموں سات سو روپیه مهر پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۸۔فروری ۱۹۲۲ء کو اعلان فرمایا۔لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : خطبہ نکاح کی غرض اولین تو یہی ہوا کرتی ہے کہ اس میں جو نصائح ہیں وہ لڑکی اور لڑکے والوں کو سنائی جائیں مگر ہمارے بعض نکاح ایسے ہوتے ہیں کہ نہ لڑکی والے موجود ہوتے ہیں نہ لڑکے والے۔ان دونوں کی عدم موجودگی میں ان کے نکاح قادیان میں پڑھے جاتے ہیں۔اس سے ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس بابرکت مقام پر نکاح ہو جس کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہاں جو کام کیا جائے گا بابرکت ہوگا۔اور نیز وہاں ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر رکھی ہیں وہ دعا کریں گے۔یہ خواہش اپنے رنگ میں اچھی ہے مگر میرے نزدیک ایسی حالت میں نکاح کے متعلق نصائح کرنا غیر ضروری ہے اس لئے جس غرض سے یہ کیا جاتا ہے اس کے متعلق کچھ کہتا ہوں۔نکاح کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ یہ خوشی کا موقع ہے اور خوشی کے موقع میں کوئی نہیں چاہتا کہ وہ شامل نہ ہو۔اگر کسی کے رشتہ دار دور ہوں تو وہ ایسے موقع پر لکھ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے آنے تک ملتوی کر دو۔حالانکہ کوئی بوجھ نہیں اٹھانا ہوتا جس میں ان کی امداد کی