خطبات محمود (جلد 3) — Page 133
خطبات محمود ١٣٣ جلد موم خلاف تجسس کرتے ہیں مگر میرا نگران اور محافظ اور رقیب زبردست بھی ہے تو انسان اس قسم کے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ غیر دیکھنے والا تو میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا مگر خدا جو میرا نگران ہے وہ مجھ کو سزا بھی دے سکتا ہے اس لئے وہ اپنی حالت کی اصلاح بھی کر لیتا ہے۔نکاح کے موقع پر جو آیات رکھی گئی ہیں ان میں سے ایک آیت میں یہ بھی آتا ہے۔اِن اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبا - سے اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہر نظر ہو اس کو خوش کرنے کے لئے اس کے احکام کی اطاعت ہو اور اپنے نفس کا خود محاسبہ کیا جائے تو کسی رقابت کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ جب نگرانی کر رہا ہے تو کسی کو نجس کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔مثلاً دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہوں اور کوئی ایسی ہستی آجائے جس سے دونوں ڈرتے ہوں تو دونوں اپنے جھگڑے کو چھوڑ دیں گے۔اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے کا تجتس بیکار ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر دونوں پر ہے اور وہ دونوں کو سزا دے سکتا ہے۔دو آدمیوں کی لڑائی اس وقت ہوتی ہے جب تک ان کو تیرے زبر دست کا خوف نہ ہو مگر جب معلوم ہو کہ ایک تیسرا از بر دست سر پر آگیا تو دونوں کی لڑائی ختم ہو جاتی ہے۔گو یہ علمی نکتہ ہے مگر یہ بات تجربہ شدہ ہے کہ میاں بیوی میں جھگڑا رقابت سے ہی ہوتا ہے حتی کہ رقابت رسول کریم ﷺ کی بیویوں میں بھی تھی۔یہان کو ٹوہ لگ جاتی تھی کہ رسول اللہ دوسری بیوی کے ہاں دیر تک کیوں ٹھہرے۔رسول کریم ﷺ کا قاعدہ تھا کہ روزانہ علاوہ باری کے سب بیویوں کے ہاں جاتے تھے کہ شاید کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہو ایک بیوی اس قبیلہ کی تھیں کہ وہاں عمدہ شہد ہو تا تھا۔آپ کو شہد مرغوب تھا۔وہ بیوی آپ کو شہد کا شربت بنا کر پلایا کرتی تھیں۔اس اہتمام میں دیر بھی ہو جاتی تھی۔دوسری بیویوں کو یہ دیر ناگوار ہوئی۔شہد میں ایک قسم کی ایک سی ہوتی ہے خواہ وہ کتنا ہی خالص ہو۔بیویوں نے مشورہ کیا کہ آپ جب آئیں تو آپ کو کہا جائے کہ آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ جب شہد کا شربت پی کر آئے تو سب بیویوں نے اپنی اپنی جگہ یہی کہا کہ آپ کے منہ سے بو آتی ہے سے ان کی غرض شہد سے باز رکھنا نہ تھا بلکہ وہاں بیٹھنے سے بوجہ رقابت روکنا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے زجر کی اور کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو تم کو بدل کر اور بیویاں آنحضرت ﷺ کو دی جائیں گی۔پس تجس میں نہ پڑا جائے بلکہ