خطبات محمود (جلد 3) — Page 94
خطبات ۹۴ جلد سوم کیا اثر پڑے گا۔بیاہ کا معاملہ انسان کے اختیار میں ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اولاد کو نیک باپ سے ملایا جائے گا۔سے اسی طرح جو نیک بیوی ہوگی وہ اپنے نیک خاوند سے ملائی جائے گی اور جو نیک خاوند ہو گا اور اس سے اعلیٰ درجہ کی نیک عورت ہوگی اس سے ملایا جائے گا۔کسی کی اولاد ہونا کسی کے اختیار میں نہیں مگر نیک بیوی خود انتخاب کر سکتا ہے۔اور اسی طرح لڑکی والے نیک اور دیندار لڑکا انتخاب کر سکتے ہیں۔نکاح کا طریقہ سادہ ہے نہ باجے نہ کچھ ایک نکاح خواں اور دو گواہ۔اگر نکاح خواں نہ ہو تو انسان گواہوں کی موجودگی میں اپنا نکاح خود پڑھ سکتا ہے یا لڑکی کا ولی پڑھ سکتا ہے۔نکاح کے بعد خرما یا کوئی اور چیز بانٹنا فرض نہیں۔محض ایک پسندیدہ امر ہے اور سنت ثابتہ ہے۔اعلان نکاح کے لئے دف جائز ہے مگر آج دنیا ترقی کر گئی ہے اور اس کو لوگ پسند نہیں کرتے اور جن باجوں کو لوگ پسند کرتے ہیں وہ جائز نہیں۔اس لئے قدرت نے ہم سے یہ بھی چھڑوا دیا۔اس کی بھی اب ضرورت نہیں رہی۔کیونکہ دف سے غرض اعلان تھا اور اعلان کا ذریعہ دف سے بھی بہت اعلیٰ درجہ کا نکل آیا جو اخبار ہے کہ اس میں اعلان ہو جاتا ہے۔دف سے جو غرض تھی وہ دوسری صورت میں بطور احسن پوری ہو گئی۔الفضل ۱۷ - فروری ۱۹۲۱ء صفحه ۶۴۵) له الفضل ۱۴ فروری ۱۹۲۱ء صفحه ۱ ه وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعْتُهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانِ الْحَقْنَابِهِمْ دَيَّنَهُمْ وَمَا المُنْهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيءٍ كُل امرِى بِمَا كَسَبَ رَهِينُ (الطور : (۳۳)