خطبات محمود (جلد 3) — Page 90
خطبات محمود ۹۰ جلد سوم يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا تُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُم وَ مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عظیما - اے فرمایا کہ انسان کے اعمال کا بہت حصہ انسان کے دخل و قبضہ میں نہیں۔بہت سی مجبوریوں میں گھرا ہوا ہے لیکن اس کے قبضہ میں ایک چیز ہے وہ اس کا دل ہے۔یہ اپنے دل کو صاف کرنے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔دل وہ ہے جس پر کوئی جبریہ قابو نہیں پاسکتا، کوئی زبر دستی کسی کے دل میں داخل نہیں ہو سکتا اور نہ زبر دستی کسی کے دل میں کوئی بات ڈال سکتا ہے، نہ مجبور کر سکتا ہے کہ جس طرح وہ جو سوچ سکتا ہے وہ نہ سوچے، دل کو کوئی جھکا نہیں سکتا۔اس لئے فرمایا کہ دل تمہارے قبضہ میں ہے تم اس کی اصلاح کرو کیونکہ نہ کوئی زبردستی دل پر قبضہ کر سکتا ہے نہ بت پرستی کو دل میں داخل کرا سکتا ہے نہ باطل کے آگے جھکا سکتا ہے۔حکومت کو اس پر قبضہ نہیں، طاقت کو اس پر ا قبضہ نہیں، حکومت یہ کر سکتی ہے کہ پھانسی دے دے۔چند لوگ مل کر ایک شخص کو بت کے آگے جھکا سکتے ہیں لیکن جب اس کی گردن جھکی ہوئی ہوگی اس کا دل اس کا مخالف ہو گا۔پس پہلا فرض دل کی اصلاح ہے۔دوسری اصلاح زبان کی ہے۔دل کے بعد زبان پر بہت حد تک قبضہ ہوتا ہے۔منہ پر پٹی باندھی جاسکتی ہے لیکن زبر دستی کوئی بات کہلائی نہیں جاسکتی۔اس کے لئے فرمایا سچی بات کہو۔پہلے دل کی اصلاح کرو۔دوسرے زبان کو قابو میں رکھو اور ہمیشہ حق بات کہو جب تم یہ باتیں کرلو گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمُ الله تعالی تمہارے اعمال کو درست کر دے گا۔یہ وہ گر ہے جس سے انسان اپنی قسمت آپ بنا سکتا ہے۔یہ گر انسان کے دینی اور دنیاوی کاموں پر چلتا ہے کہ پہلے خود دل کی اصلاح کرے اور پھر زبان کو قبضہ میں لائے اور اس کوشش کے بعد خدا اس کے کام درست کر دے گا۔مثلاً نماز ہے جتنی انسان درست کر سکتا ہے کرے باقی اللہ تعالی کر دے گا۔اور اللہ تعالٰی اس رنگ میں کامیاب کر دے گا۔یہ اس قدر وسیع مضمون ہے کہ ہر ایک معاملہ پر حاوی ہے۔جب تک انسان اس اصول پر کار بند نہ ہو کامیابی ناممکن ہے۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جو تم کر سکتے ہو کرو اس کے کرنے میں کمی نہ کر وباقی ہم کر دیں گے۔یہی گر ہے جو نکاح کے معاملہ میں مد نظر رکھنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے اس آیت کو