خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 58

خطبات محمود ۵۸ جلد سوم یہ تو ظاہری اعمال کی کیفیت ہے۔اب رہے اخلاق۔ان کی یہ کیفیت ہے کہ جب تک فحاش نہ ہو اور گندمی سے گندی گالیاں اور کفر کے فتوے نہ شائع کرے مسلمان اور مولوی نہیں سمجھا جاتا۔معاملات میں اس سے بھی بری حالت ہے ہمارے ملک کی یہ کیفیت ہے کہ بڑے بڑے مسلمانوں نے سرکار میں لکھوایا کہ لڑکیاں ہماری جائداد کی وارث نہ سمجھی جائیں۔سرکاری حکام نے ان کو اچھی طرح ذلیل کرنے کے لئے ان سے اقرار لئے کہ کیا تمہیں اسلامی شریعت منظور نہیں۔انہوں نے لکھوا دیا کہ ہمیں شریعت منظور نہیں رواج منظور ہے اور اس پر ان کے انگوٹھے لگوائے گئے ہے۔نکاح کا معاملہ کیسا پاک معاملہ تھا اور اس میں کس قدر خوف اور ڈر کی ضرورت تھی لیکن مسلمانوں نے اس کی وہ بری گت بنائی ہے کہ جس کی حد نہیں اور جو لوگ مصلح بنتے ہیں جب ان کا خود معاملہ پیش آتا ہے تو ان کے ہاں بھی لغویات ہوتی ہیں جن کے متعلق وہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کریں تو رشتہ داروں میں تفرقہ ہوتا ہے۔جب تک باجے، آتش بازیاں اور کنچنیوں کے طائفے ساتھ نہ ہوں ان کی شادیاں ہی نہیں ہوتیں۔ابھی چند دن ہوئے میں نے ایک مولوی صاحب جو ایک مسجد کے امام بھی تھے کے متعلق اخبار میں پڑھا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی پر دو طائفے منگائے۔غرض کسی پہلو سے دیکھا جائے۔اسلام میں خرابیاں ہی خرابیاں پیدا کر دی گئی ہیں۔جب اس قدر نقص ہر طرف پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مصلح ضرور آنا چاہئے تھا اور ان نقائص کو دیکھ کر احمدیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مصلح کو قبول کر کے کیا حاصل کیا ہے۔ان کی شادیوں میں کوئی ایسی فضول رسم نہیں ہوتی، نہ باجا ہوتا ہے، نہ ڈوم مراثی ہوتے ہیں، نہ سٹھنیاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مسجد میں لوگ ذکر اللہ کے لئے جمع ہوتے ہیں ان کو کہا جاتا ہے کہ ٹھہر جاؤ ایک نکاح کا اعلان ہو گا پھر ان کو وہ کلمات منائے جاتے ہیں جن میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ معاملہ نکاح جو تم کرنے لگے ہو ایک آدھ دن کے لئے نہیں بلکہ عمر بھر اور نہ صرف عمر بھر کے لئے بلکہ عاقبت تک کے لئے ہے اس لئے خوب سوچ لو اور اپنی نیتوں کو صاف کر لو۔پھر اعلان کر دیا جاتا ہے کہ فلاں کا فلاں سے نکاح کیا گیا۔کجا یہ نکاح اور کجاوہ نکاح۔اگر اور باتوں کو نہ دیکھا جائے کہیں کتنی بڑی خدمت اسلام ہے جو مرزا صاحب نے کی۔اور اگر غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے علم کلام ہی نیا پیش