خطبات محمود (جلد 3) — Page 655
خطبات محمود ۶۵۵ جلد سوم بات نہیں یہ تو گیدڑوں والی بات ہے گیدڑ خود شکار نہیں کرتا بلکہ وہ شیر کا مارا ہوا شکار کھایا کرتا ہے۔اسی طرح بعض فطرتیں ایسی گندی ہوتی ہیں کہ وہ آپ تو کام نہیں کرتیں اور قصے سناتی رہتی ہیں کہ ہمارے باپ نے یوں کیا اور ہمارے دادا نے یوں کیا اگر تم نے اپنی زندگی میں کچھ نہیں کیا تو تمہارے باپ اور دادا اور چا کی قربانیاں تمہارے کام نہیں آسکتیں انہوں نے تو جو بدلہ لینا تھا وہ اللہ تعالی سے لے لیا مرنے والے مر گئے اور انہوں نے اللہ تعالٰی سے نعمتیں لے لیں وہ نعمتیں انہوں نے اپنی نسل کے لئے رکھ نہیں چھوڑیں بلکہ ساری کی ساری نعمتیں انہوں نے خود وصول کر لی ہیں۔ایک پیسہ اور دھیلہ تک انہوں نے اپنی اولاد کے لئے نہیں چھوڑا۔اب اولاد کا کیا حق ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اپنے لئے کافی سمجھے؟ اگر واقعہ میں انہوں نے قربانیاں کی ہیں اور قربانیاں کرنا اچھی چیز ہے تو خود بھی قربانیاں کریں اور وہ مقام حاصل کریں جو ان کے باپ دادا نے حاصل کیا تھا۔بہر حال جب کوئی شخص نیکی پر قائم رہتا ہے تو اس کے باپ دادا کی نیکی کسی حد تک اسے ضرور فائدہ پہنچاتی ہے چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ره ہے کہ جنتیوں کے ساتھ ان کے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو بھی رکھا جائے گا بشرطیکہ تومن اور نیک عمل کرنے والے ہوں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ طاقتور کو کمزور کے ساتھ ملایا جائے گا بلکہ کمزور کو طاقتور کے ساتھ ملایا جائے گا اور نچلے درجہ والے کو اوپر کا مقام رکھنے والے رشتہ دار کے ساتھ اکٹھا کیا جائے گا۔تو رشتہ داری کا تعلق بھی کچھ نہ کچھ فائدہ تو دیتا ہے مگر قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب انسان خود ایمان اور عمل صالح پر قائم ہو۔جو لوگ ایمان اور عمل صالح پر قائم نہیں ہوں گے انہیں یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔بہر حال یہ دونوں خاندان ایسے ہیں جن کا عزت سے نام لیا جاتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے حقیقی برکت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب آئندہ نسل بھی اپنے اندر تغیر پیدا کرے۔میاں چراغ الدین صاحب نے خدا تعالیٰ سے کوئی پروانہ نہیں لیا ہوا تھا۔اگر دیسی ہی قربانیاں آج کوئی اور شخص کرے اور سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو بچے طور پر وقف کر دے تو اللہ تعالی اس کے نام کو بھی بلند کر دے گا۔اس کی عزت کو قائم کر دے گا اور اس کے کارناموں کو یاد رکھنے والے لوگ پیدا کر دے گا۔خدا تعالیٰ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔بد قسمت انسان آپ ان دروازوں کو بند کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس مقام کو کہاں حاصل کر سکتا ہوں جو پہلے لوگوں نے حاصل کیا۔اس طرح وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوس