خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 633

خطبات محمود ۳۳ عبدالرحمن تمہارے کپڑوں پر یہ داغ کیسے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری شادی ہوئی ہے۔کہ اب دیکھو حضرت عبد الرحمن بن عوف جو اتنے اعلیٰ پایہ کے صحابی تھے ان کی شادی ہوتی ہے اور رسول کریم ﷺ کو پتہ ہی نہیں لگتا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف سے بڑھ کر کون اس بات کا مستحق ہو سکتا تھا کہ آپ اس کی شادی میں شمولیت فرماتے مگر چونکہ صحابہ کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ آپ کے اوقات کو محفوظ کر لیا جائے اور اس قسم کے گھر کے معاملات میں آپ کا قیمتی وقت ضائع نہ کیا جائے تاکہ آپ پوری طرح دین کی خدمت کر سکیں اس لئے انہوں نے آپ سے اس کا ذکر نہ کیا۔پھر آپ نے حضرت عبدالرحمن سے دریافت فرمایا کس سے شادی ہوئی ہے۔انہوں نے عرض کیا فلاں عورت سے۔معلوم ہوتا ہے وہ بڑی عمر کی تھی۔آپ نے فرمایا کسی جوان لڑکی سے شادی کرتے تو اچھا تھا۔غرض میں نے جو نکاحوں وغیرہ کے متعلق پابندی لگائی ہوئی ہے اس کی یہ وجہ نہیں کہ میں بعض کو حقیر سمجھتا ہوں اور بعض کو معزز خیال کرتا ہوں بلکہ صرف اس لئے کہ میں ایک بشر ہوں اور سلسلہ کے کاموں کا بوجھ مجھ پر زیادہ ہے اور میں ہر ایک کی تقریب پر نہیں پہنچ سکتا اس لئے میں نے مناسب سمجھتے ہوئے حد بندی لگادی ہے اور سوائے کسی خاص وجہ کے ایسے کاموں میں حصہ نہیں لیتا۔اگر میں ہر ایک کی بات مانتا چلا جاؤں تو سلسلہ کے کاموں میں حرج واقع ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی نے دین کی خدمت کا جو کام میرے سپرد کیا ہے میں اس کو پوری طرح سرانجام نہیں دے سکتا۔الفضل -۸- دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه (۴۳ له الفضل اجون ۱۹۴۷ء له المجادلة : ۲۳ که بخاری کتاب الرقاق باب يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب که بخارى كتاب النكاح باب كيف يدعى للمتزوج