خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 623

خطبات محمود ۶۲۳ جلد موم کروڑوں لوگ دنیا میں موجود ہیں حالانکہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔پس اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ لے کہ کل کو اس کام کے بڑے بڑے نتائج نکلنے والے ہیں اس لئے تقویٰ اور خشیت اللہ کے ساتھ اس گھر میں داخل ہو اور ہمیشہ اللہ تعالی کے بیان کردہ احکام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرو۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو آئندہ تمہاری قوم کے لئے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے۔پس شادی کے وقت مرد اور عورت کو دوسرے رشتہ داروں کو بہت دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالی اس تقریب کو ان کے لئے آرام اور اطمینان کا باعث بنائے۔جب تقویٰ اللہ کا خانہ خالی چھوڑا جاتا ہے اس وقت شادیاں دنیا کے لئے تباہی کا موجب بن جاتی ہیں۔یورپ کے لوگ چونکہ محض نفسانی خواہشات کے لئے شادیاں کرتے ہیں اس لئے ان شادیوں کے بد نتائج بھی نکل رہے ہیں اور تمام ممالک اکثر ایک دو سرے سے بر سر پیکار رہتے ہیں اور ایک قوم دوسری قوم کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالی کا یہ قانون ہے کہ جب بھی نفسانی لذات کے پورا کرنے کے لئے شادیاں کی جائیں گی ان کے نتائج برے ہی نکلیں گے اور ان کی نسلیں اپنی قوم کی تباہی کا موجب بنیں گی اور آج ہمیں یہ نظارہ یورپ میں نظر آرہا ہے۔پس دنیا کی فتوحات اتنی اہم نہیں، کسی ملک کا فتح ہونا یا ہاتھ نکل جانا اتنا اہم نہیں جتنا کہ شادی اور بچے کا پیدا ہونا اہم ہے۔بعض لوگ ان خوشی کے مواقع پر اللہ تعالی کو بھول جاتے ہیں اور خلاف شریعت افعال بھی شادی بیاہ کے موقع پر کر گزرتے ہیں حالانکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس پر انسان کو پوری خشیت اور خضوع سے دعاؤں میں لگ جانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو تاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرماتے ہوئے شادی کے نیک نتائج پیدا کرے ہماری جماعت کو یہ بات خاص طور پر مد نظر رکھنی چاہئے کہ شادیوں اور نکاحوں کے مواقع پر ان کی حرکات اور ان کے افعال دوسرے لوگوں جیسے نہ ہوں اور وہ اس موقع پر اللہ تعالی کے حضور جھک جائیں تاکہ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ان شادیوں کو حقیقی معنوں میں شادیاں بنائے۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا انسان کو علم نہیں ہو تا یا اس کے بس سے باہر ہوتی ہیں وہ خود ان کی اصلاح نہیں کر سکتا ایسے مواقع پر دعا ہی اس کے لئے بہتری کے سامان پیدا کرتی ہے۔(الفضل یکم دسمبر ۱۹۶۰ء صفحه ۳، ۴) له الفضل سے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔ه الحشر : ۱۹