خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 622 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 622

خطبات محمود ۶۲۲ جلد سوم کسی گاؤں کی گلی میں بھی نہ ہوا ہو گا، بلکہ ان کے اپنے گھر میں بھی نہ ہوا ہو گا۔مگر کون کہہ سکتا تھا کہ اس خاموش شادی کے نتیجہ میں ایک ایسا انسان پیدا ہو گا جس پر دنیا کے سارے کونوں سے رحمتیں بھیجی جائیں گی۔ایک طرف تو وہ دھوم کی شادی جس کے نتیجہ میں وہ شخص پیدا ہوا جس پر تمام دنیا کی لعنتیں پڑتی ہیں اور دوسری طرف وہ خاموش شادی ہے جس کے نتیجہ میں وہ شخص پیدا ہوا جس پر صبح و شام رحمتیں بھیجی جاتی ہیں۔اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں جو بڑے بڑے فریسی تھے ان کے والدین کی جب شادیاں ہوئی ہوں گی تو کس شان و شوکت سے ہوئی ہونگی اور ملک بھر میں شور پڑ گیا ہو گا کہ فلاں عالم کی شادی ہے۔مگر مسیح علیہ السلام جب پیدا ہوئے تو یہودی علماء نے آپ کو سخت سے سخت تکلیفیں دیں اور ان کے ماننے سے انکار کیا ان کی والدہ پر بہتان باندھے کہ نعوذ باللہ یہ ولد الزنا ہے اور مسیح علیہ السلام کو مصلوب کرنے کی انتہائی کوششیں کیں گو وہ صلیب پر چڑھانے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن اللہ تعالی نے مسیح علیہ السلام کو صلیب سے زندہ اتار لیا اور یہودیوں کے اس سلوک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی۔اب یہودی جہاں جاتے ہیں وہاں ان پر لعنت ہی پڑتی ہے۔ہٹلر مسولیتی اور فرینکو نے ان کے لاکھوں آدمیوں کو مروا دیا۔اور ان پر ایسی لعنت پڑی ہے کہ انہیں سو سال گزر چکے ہیں اور یہودی لاکھوں خون دے چکے ہیں لیکن ان سے وہ لعنت دور نہیں ہوتی۔یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی مخالفت کی اور انہیں صلیب پر لٹکایا۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو اس قدر ترقی دی کہ وہ تمام دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔یہی کیفیت رسول کریم اے کی پیدائش کے وقت تھی۔جب ابو جہل پیدا ہوا ہو گا تو پتہ نہیں کتنی قربانیاں ذبح کی گئی ہوں گی اور کتنی دعوتیں کی گئی ہوں گی اس وقت لوگ کہتے ہوں گے کتنا بھاگوان بچہ ہے کہ جس کی خوشی میں اس قدر قربانیاں ذبح کی گئی ہیں اور اتنے غریبوں کو کھانا ملا ہے۔لیکن جب رسول کریم ﷺ پیدا ہوئے اس وقت آپ کے والد فوت ہو چکے تھے اور آپ یتیم ہونے کی حالت میں اس دنیا میں آئے لیکن وہ بچہ جس کے متعلق لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بڑا بھاگوان ہے وہ وطن سے دور لعنتی موت مرا اور ہمیشہ کے لئے ذلت کے گڑھے میں جا پڑا اور آج کوئی اس کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتا۔اس کی اپنی اولاد نے بھی اس کا نام لینا پسند نہ کیا لیکن جہاں اس کا کوئی نام لینے والا موجود نہیں وہاں رسول کریم ﷺ کا نام لینے والے