خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 582

خطبات محمود ۵۸۲ جلد سوم کرتے تھے مگر اس لفظ کے سوا شناخت کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا اس لئے آپ بجائے دادی کے انہیں جگ دادی کہا کرتے تھے۔جب مبارک احمد مرحوم بیمار ہوا تو دادی نے کہدیا کہ یہ بیمار اس لئے ہوا ہے کہ مرغیوں کے پیچھے جاتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو فوراً حضرت اماں جان سے فرمایا کہ مرغیاں گنوا کر ان بچوں کو قیمت دے دی جائے اور مرغیاں ذبح کر کے کھالی جائیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبارک احمد بہت پیارا تھا ۱۹۰۷ء میں وہ بیمار ہو گیا اور اس کو شدید قسم کے ٹائیفائڈ کا حملہ ہوا اس وقت دو ڈاکٹر قادیان میں موجود تھے۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور تھے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ ہمیں باہر نوکری کرنے کی بجائے قادیان میں رہ کر خدمت کرنی چاہئے اور اس رنگ میں شائد وہ پہلے احمدی تھے جو ملازمت چھوڑ کر یہاں آگئے تھے ایک تو وہ تھے اور دوسرے ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب تھے جو رخصت پر یہاں آئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول بھی ان کے ساتھ مل کر مبارک احمد مرحوم کا علاج کیا کرتے تھے۔اس کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب دیکھا کہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے اور معبرین نے لکھا ہے کہ اگر شادی غیر معلوم عورت سے ہو تو تعبیر موت ہوتی ہے مگر بعض معبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیر مل جاتی ہے۔پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا تو آپ نے فرمایا کہ معبرین نے لکھا ہے کہ اس کی تعبیر تو موت ہوتی ہے مگر ظاہری رنگ میں پورا کر دینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر مل جاتی ہے اس لئے آؤ مبارک احمد کی شادی کریں۔گویا وہ بچہ جسے شادی بیاہ کا کچھ بھی علم نہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکر ہوا۔جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کر رہے تھے تو ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے گھر سے جو یہاں بطور مہمان آئے ہوئے تھے صحن میں نظر آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور فرمایا ہمارا انشاء ہے کہ مبارک احمد کی شادی کردیں آپ کی لڑکی مریم ہے آپ اگر پسند کریں تو اس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حضور مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کے اہل و عیال گول کمرہ میں رہتے تھے وہ نیچے گئیں اور جیسا کہ بعد کے واقعات معلوم ہوئے وہ یہ ہیں کہ ڈاکٹر صاحب شاید وہاں نہ تھے کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کچھ دیر۔