خطبات محمود (جلد 3) — Page 570
خطبات محمود ۵۷۰ ۱۲۶ جلد سوم وقف کی حقیقت و عظمت فرموده ۱۰ اپریل ۱۹۴۴ء) ۱۰ اپریل ۱۹۴۳ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مولوی نور الحق صاحب مولوی فاضل کا نکاح صفیہ صدیقہ بنت قاضی محمد رشید صاحب کے ساتھ پانچ سو روپیہ مہر پر اور سید محمد اکمل صاحب کا نکاح صادقہ بیگم بنت مرزا قدرت اللہ صاحب سے دو ہزار پانچسو روپیہ مصر پر پڑھا۔اے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا میں اس وقت کچھ زیادہ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ میں نے دعا کے لئے بھی جاتا ہے لیکن اس کے نکاح کی نسبت جس کے اعلان کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں دو ضروری باتیں میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں ایک تو جماعت کے لحاظ سے اور ایک ان لوگوں کے لحاظ سے جن کی وجہ سے مجھے اس بات کے کہنے کی ضرورت پیش آئی۔قرآن کریم میں اللہ تعالى حكما فرماتا ہے وَلتَكُنْ مِنْكُمْ اُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الخَیر سے تم میں سے ایک جماعت حتمی طور پر ایسی ہونی چاہئے کہ وہ دعوت الی الخیر کرتی رہے۔یہ جماعت جو کلی طور پر اپنے آپ کو دعوت الی الخیر کے ساتھ وابستہ کر دے گی یہ لازمی بات ہے کہ وہ اس قسم کے دنیوی فوائد حاصل نہیں کر سکے گی جس قسم کے دنیوی فوائد دوسرے لوگ حاصل کرتے ہیں یا اس قسم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکتی جس قسم کی تعلیم آج کل دولت لایا کرتی ہے۔وہ دین کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے اور دینی خدمات کرنے کے لئے لازماً ان ذرائع کو اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھیں گے جو دولت لاتے ہیں یا آج کل کے معیار