خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 542

خطبات محمود ۵۴۳ جلد سوم ہے جو بعض ان مبلغین میں بھی نظر نہیں آتا جنہوں نے خدمت دین کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں۔میں اللہ تعالٰی کے احسانوں میں سے یہ بھی ایک احسان سمجھتا ہوں کہ تجارت کرنے والے طبقہ میں سے بھی احمدی ہوں جو اپنے طبقہ میں تبلیغ کر سکیں۔سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدی ہوئے ان میں بڑا اخلاص تھا اور خوب تبلیغ کرنے والے تھے ان کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بڑے درد سے سنایا کرتے تھے اور مجھے بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو ان کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے۔ابتداء میں ان کی مالی حالت بڑی اچھی تھی اور اس وقت وہ دین کے لئے بڑی قربانی کرتے تھے۔تین سو ، چار سو ، پانچ سو روپیہ تک ماہوار چندہ بھیجتے تھے۔خدا کی قدرت وہ بعض کام غلط کر بیٹھے اور اس وجہ سے ان کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ان ہی کے متعلق ہوا۔- قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بتادے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پارے سے جب یہ الہام ہوا تو پہلے مصرعہ کی طرف ہی خیال گیا اور ” قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بنادے" سے یہ سمجھا گیا کہ سیٹھ صاحب کا کاروبار پھر درست ہو جائے گا۔اور دوسرے مصرعہ بنا بنایا تو ڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے" کی طرف ذہن نہ گیا کہ پہلے کام بن کر پھر بگڑ جائے گا بلکہ اسے ایک عام اصول سمجھا گیا۔سیٹھ صاحب کے کاروبار کو دھکا لگنے کے بعد دو تین سال حالت اچھی ہو گئی مگر پھر خراب ہو گئی اور یہاں تک حالت پہنچ گئی کہ بعض اوقات کھانے پینے کے لئے بھی ان کے پاس کچھ نہ ہوتا۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عجیب محبت کے رنگ میں ان کا ذکر کیا۔فرمایا سیٹھ عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب کا اخلاص کتنا بڑھا ہوا تھا پانچ سو روپے کی رقم تھی جو انہوں نے اس موقع پر بھیجی تھی کسی دوست نے ان کی مشکلات کو دیکھ کر دو تین ہزار روپیہ انہیں دیا کہ کوئی تجارتی کام شروع کر دیں یا برتنوں کی وکان کھول لیں۔اس میں سے پانچ سو روپیہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجوا دیا اور لکھا مدت سے میں چندہ نہیں بھیج سکا اب میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھے ایک رقم بھجوائی ہے تو میں اس میں سے دین کے لئے کچھ نہ دوں۔غرض خدمت دین کے لئے ان کا اخلاص بہت بڑھا ہوا تھا۔ایک عرصہ تک شیخ رحمت اللہ صاحب کو