خطبات محمود (جلد 3) — Page 39
خطبات محمود ۳۹ جلد سوم والوں کی سب سے بڑی مخالفت ہوتی ہے اور جس طرح رسول کریم ﷺ کی بڑی مخالفت وہی ہے جو آپ کے قریبی رشتہ داروں نے کی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کی بڑی مخالفت بھی آپ کے قریبی رشتہ داروں نے ہی کی۔لوگوں نے رسول کریم ال کا سب سے بڑا مخالف جس کو قرار دیا ہے گو وہ ایذاء رسانی میں سب سے بڑا نہ ہو مگر اس میں شک نہیں کہ بغض میں سب سے بڑھا ہوا تھا وہ ابو لہب آپ کا چا تھا۔اس کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں نے بھی آپ کی مخالفت کی۔وجہ یہ ہے کہ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ہم میں سے ہو کر نہ صرف ہم سے زیادہ شہرت اور عزت حاصل کرلے بلکہ ہم کو اپنے تابع کرلے۔اس خیال سے مجبور ہو کر انہوں نے آپ کے خلاف کوششیں کیں۔اور آپ کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا لیکن آپ کو خدا نے بتا دیا تھا کہ تیرے نام کے سوا کسی کا نام زندہ نہیں رہے گا۔ان لوگوں کی نسلیں تجھ میں ہو کر چلیں تو چلیں۔ورنہ یہ مٹ جائیں گے اور بالکل تباہ و برباد ہو جائیں گے۔چنانچہ فرمایا اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر ہے کہ تیرے دشمنوں کی نسل منقطع ہو جائے گی۔اب دیکھئے بظاہر ابو جہل کی اولاد ہوئی اور رسول کریم اے کی نہیں ہوئی۔مگر خدا تعالٰی آپ کو فرماتا ہے کہ تیرے دشمن ابتر ہوں گے۔اس کے یہی معنی ہیں کہ اب وہی اولاد قائم رہے گی جو رسول کریم ﷺ کی اولاد بن کر رہے گی۔چنانچہ دیکھ لو عکرمہ کی جو کہ ابو جہل کا بیٹا ہے اولاد ہوئی مگر کون ہے جو یہ کہے کہ میں ابو جہل کی اولاد ہوں وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کی اولاد ہیں اور اس سے زیادہ کسی کی نسل کیا منقطع ہو سکتی ہے کہ نسل موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے آباء کی نسل ہونے سے انکار کردے۔ای طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا گیا کہ تیرے سوا اس خاندان کی نسلیں منقطع ہو جائیں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اب اس خاندان میں سے وہی لوگ باقی ہیں جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور باقی سب کی نسلیں منقطع ہو گئی ہیں۔جس وقت حضرت مسیح موعود نے دعویٰ کیا اس وقت اس خاندان میں ستر کے قریب مرد تھے۔لیکن اب سوائے ان کے جو حضرت مسیح موعود کی جسمانی یا روحانی اولاد ہیں ان ستر میں سے ایک کی بھی اولاد نہیں ہے۔حالانکہ انہوں نے حضرت صاحب کا نام مٹانے میں جس قدر ان سے ہو سکا کوششیں کیں۔اور اپنی طرف سے پورا پورا زور لگایا۔مگر نتیجہ کیا ہوا؟ یہی کہ وہ خود مٹ گئے اور ان کی نسلیں منقطع ہو گئیں۔یہ بھی حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک عظیم الشان نشان ہے۔پھر حضرت مسیح موعود کو