خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 511

خطبات محمود ۵۱۱ جلد خوم لینے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے گھر میں لیٹے تو ایک لونڈی دوڑی ہوئی آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی ہائے ہائے تیرا دوست تو آج پاگل ہو گیا ہے۔حضرت ابو بکر میں بیٹی نے کہا کونسا دوست اس نے کہا محمد ( اور کونسا۔حضرت ابو بکر بھی نہ کہنے لگے تمہیں کیو نکر پتہ لگا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگی آج اس نے قوم کے ندوہ میں اعلان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے میرے پاس آتے اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔حضرت ابو بکر لیٹے ہوئے تھے یہ سنتے ہی آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنی چادر سنبھالی۔ہمارے ملک میں جیسے ساڑھیاں ہوتی ہیں اس قسم کی چادر اہل عرب بھی اپنے ارد گرد لپیٹ لیا کرتے تھے اور ایک حصہ کا تو تہبند بنالیتے اور دوسرا اوپر لپیٹ لیتے۔انہوں نے جلدی سے چادر درست کی جوتی پہن لی اور سیدھے رسول کریم کے دروازہ پر پہنچے اور دستک دی۔رسول کریم ال باہر تشریف لائے تو آپ نے کہا اے میرے دوست! کیا یہ سچ ہے کہ تو کہتا ہے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے اس خیال سے کہ آپ کو ٹھوکر نہ لگے چاہا کہ ابو بکر کو پہلے یہ مسئلہ سمجھالوں اور پھر کوئی اور بات کروں چنانچہ آپ نے فرمایا ابو بکڑ دیکھو بات یہ ہے۔حضرت ابو بکڑ نے کہا میں نے آپ سے ایک سوال کیا ہے آپ کا فرض صرف اتنا ہے کہ میرے سوال کا جواب دیں آپ مجھے کوئی اور بات نہ بتائیں۔میں نے آپ سے صرف یہ سوال کیا ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ فرشتے آپ پر نازل ہوتے اور آپ سے کلام کرتے ہیں۔رسول کریم نے پھر چاہا کہ جواب دینے سے پہلے میں ان کو مسئلہ سمجھالوں تاکہ ٹھوکر نہ لگے چنانچہ آپ نے فرمایا ابو بکر دیکھو بات یہ ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا میں آپ کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے ہاں یا نہ میں جواب دے دیں۔اب رسول کریم اے کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ آپ جواب دے دیتے چنانچہ آپ نے فرمایا ابو بکر پھر بات تو یہی ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں اس خیال سے افسردگی پیدا ہوئی کہ ابو بکر میرا پرانا دوست تھا یہ بھی میرے ہاتھ سے گیا۔مگر جب آپ نے کہا ابو بکر بات تو یہی ہے کہ فرشتے مجھ سے ہم کلام ہوتے ہیں تو حضرت ابو بکڑ نے کہا آپ گواہ رہیں کہ میں آپ پر ایمان لایا۔رسول کریم ا نے فرمایا ابو بکر تم مجھے بات تو پوری کر لینے دیتے۔حضرت ابو بکڑ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے آپ کو پوری بات اس لئے نہیں کرنے دی کہ جب میں نے ہمیشہ آپ کو صادق اور راست باز پایا ہے تو اب میں اپنے ایمان کو دلیلوں سے کیوں خراب کروں۔شے