خطبات محمود (جلد 3) — Page 484
خطبات محمود ۴۸۴ جلد سوم - ساری عزتیں سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہیں (فرموده ۲۶ - دسمبر ۱۹۳۸ء) ۲۶۔دسمبر ۱۹۳۸ء حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسجد نور میں ظہر و عصر کی نماز میں جمع کر کے پڑھانے کے بعد خطبہ نکاح پڑھا اور اس کے بعد اعلان فرمایا کہ (صاحبزاده) مرزا مظفر احمد صاحب آئی۔سی۔ایس ابن (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کا نکاح (صاحبزادی) امتہ القیوم جو میری بیوی (سیده) امتہ الحی بیگم صاحبہ کے بطن سے ہے گیارہ سو روپیہ مہر پر قرار پایا ہے اور دوسرا نکاح میرے لڑکے (صاحبزادہ) مرزا مبارک احمد کا طیبہ بیگم صاحبہ جو میاں عبد اللہ خاں صاحب کی لڑکی ہیں گویا میری چھوٹی ہمشیرہ (صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم کی لڑکی ہیں کے ساتھ گیارہ سو روپیہ مہر پر قرار پایا ہے "۔اے : خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ۳۲ سال کا عرصہ ہوا جبکہ پہلے پہل میں نے چند ایک دوستوں کے ساتھ مل کر رسالہ تشحیذ الا زبان جاری کیا تھا اس رسالہ کو روشناس کرانے کے لئے جو مضمون میں نے لکھا جس میں اس کے اغراض و مقاصد بیان کئے گئے تھے وہ جب شائع ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح الاول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اس کی خاص تعریف کی اور عرض کیا کہ یہ مضمون اس قابل ہے کہ حضور اسے ضرور پڑھیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیت المبارک میں وہ رسالہ منگوایا اور غالبا مولوی محمد علی صاحب سے وہ مضمون پڑھوا کر سنا اور تعریف کی لیکن اس کے بعد جب میں حضرت خلیفہ اول سے ملا تو آپ نے فرمایا میاں تمہارا مضمون بہت اچھا تھا مگر