خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 477

خطبات محمود جلد سوم بھی اربوں ارب میں سے ایک تو قاعدہ وہی ہے البتہ استثنائی صورت نبی کے لئے ہو سکتی ہے اس قاعدہ کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ہماری شریعت کہتی ہے کہ جب آپس میں معاملہ طے کرو تو اس کو تحریر میں لے آیا کرو۔باوجود اس قاعدہ کے بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے پاس جتنی امانت رکھی جائے جب بھی چاہو ان سے لے سکتے ہو۔سودا وغیرہ دکانداروں سے لیا جاتا ہے تو بغیر تحریر کے دکاندار سودا دے دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ دھوکا بازی نہیں کریں گے۔ان حالات کی موجودگی میں تحریر کرنے والا قاعدہ بدل نہیں سکتا وہ قاعدہ ویسا ہی قائم ہے جیسے پہلے تھا۔تو ولی مرد ہی ہو سکتا ہے۔ولایت کا پہلا حق باپ کو ہے اگر وہ نہ ہو تو بھائی ولی ہوتے ہیں اگر وہ بھی نہ ہوں تو پھر عورت کے بھائی ولی ہوتے ہیں اور اگر کوئی مرد ولی نہ ہو تو حکومت ولی ہوتی ہے خواہ وہ حکومت روحانی ہو یا دنیاوی۔البتہ حکومت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ لڑکی کی والدہ سے مشورہ کرے۔ہمارے پاس اگر ایسے رشتے آئیں تو ہم لڑکی کی ماں سے مشورہ کرنے کے بعد ہی رشتہ کریں اور بسا اوقات اس کی مرضی ہی مقدم رکھی جاتی ہے۔مجھے تو یاد نہیں کہ اس قسم کا واقعہ ہوا ہو اگر ہوا تو اس قدر کم کہ وہ اب یاد بھی نہیں رہا۔بالعموم ماں کی مرضی دیکھی جاتی ہے البتہ وکالت اور ولایت کوئی عورت نہیں کر سکتی تو ایسے حالات میں کہ لڑکی کا کوئی ولی نہ ہو خلیفہ یا اس کا نمائندہ اس کا ولی ہو گا۔نکاح کے بارے میں مجھ سے آج ہی علماء کی طرف سے ایک سوال کیا گیا ہے اس سوال کا تعلق بھی نکاح سے ہی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کردوں۔گزشتہ دنوں ہمارے ایک عالم نے دوسری شادی کرنے کا ارادہ کیا تو دوسرے بعض علماء نے ان پر اعتراض کیا۔اس عالم نے جواب میں انہیں کہا کہ خلیفہ المسیح کا منشاء یہ ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کی جائیں اور تغییر قرآن کی رو سے بھی خلیفہ المسیح کے نزدیک ایک سے زیادہ شادیاں کرنی اچھی ہیں۔اس پر اعتراض کرنے والے علماء میرے پاس آئے اور سوال کیا کہ یہ مسئلہ بتا ئیں میں نے انہیں کہا کہ میرے نزدیک قرآن سے یہی ثابت ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنی چاہئیں اور قرآن مجید نے بھی کثرت کو پہلے رکھا ہے اور ایک شادی کو بعد میں بیان کیا ہے (اس پر حضور نے فرمایا کسی کے پاس قرآن مجید ہے تو ایک دوست نے قرآن